حیدرآباد : کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف اڈیا (سی اے جی) نے اس کی رپورٹ میں کہا ہیکہ جھیلوں کے سروے سے متعلق کام اور دیگر نوٹیفکیشن نامکمل ہے۔ صرف پانچ فیصد (165) جھیلوں کو جون 2018ء تک نوٹیفائی کیا گیا حالانکہ یہ کام تین سال قبل تفویض کیا گیا تھا۔ تین سال میں اس کام کو مکمل نہ کرنے پر سی اے جی نے برہمی کا اظہار کیا۔ جھیلوں کے تحفظ کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی کاوشوں اور اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے کی گئی اس کی آڈٹ میں کہا گیا کہ 3,132 جھیلوں کو شمار کرتے ہوئے جو فہرست بنائی گئی ہے وہ جامع نہیں ہے۔ اس میں 146 جھیلیں شامل نہیں ہیں۔ محکمہ جات آباپشی اور ریونیو کے ریکارڈس کے ساتھ سروے نتائج کو ہم آہنگ کرنے میں تاخیر کی وجہ قطعی اعلان کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔