ماریڈ پلی ‘ حمایت نگر ‘ نامپلی ‘ چندرائن گٹہ و راجندر نگر میں صورتحال بہتر
حیدرآباد۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر میں کئی شہروں میں زیر زمین پان کی سطح میں کمی آتی جا رہی ہے حیدرآباد کی صورتحال بالکل برعکس ہے ۔ حیدرآباد ڈویژن میںزیر زمین پانی کی سطح 5.67 میٹر نیچے سے گھٹ کر 4.16 میٹر رہ گئی ہے ۔ اس طرح شہر میں زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے ۔ زیر زمین پانی کی سطح میں جملہ 1.51 میٹر کا اضافہ ہوا ہے ۔ تلنگانہ گراونڈ واٹر ڈپارٹمنٹ کے ڈاٹا میں یہ بات بتائی گئی ہے ۔ اسی طرح ریاست بھر میں بھی زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کی اصل وجہ بارش میں کمی ہوتی ہے ۔ حیدرآباد میں مانسون کے کچھ سیزن بہت اچھے رہے ہیں جن کے نتیجہ میں زیر زمین پانی کی سطح بڑھ گئی ہے ۔ دوسرا اہم عنصر یہ بھی ہے کہ کالیشورم پراجیکٹ اور مشن بھاگیرتا سے بھی پانی کی سپلائی میں بہتری آئی جس سے شہریوں کا بورویلس پر انحصار کم ہوا ہے ۔ زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کی اصل وجہ مانسون کی ناکامی ہوتی ہے ۔ تاہم حیدرآباد میں جاریہ مانسون سیزن میں اب تک جملہ 19.2 فیصد اضافی بارش ہوئی ہے اور امکان ہے کہ اگسٹ اور ستمبر میں مزید بارش ہوگی ۔ 2015 کے بعد سے شہر کے کئی علاقوں جیسے حمایت نگر ‘ نامپلی ‘ چندرائن گٹہ اور راجندر نگر میں زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے ۔ تاہم سب سے زیادہ بہتر صورتحال ماریڈ پلی میں دیکھی گئی ہے ۔ یہاں زیر زمین پانی کی سطح 29.50 میٹر نیچے سے گھٹ کر 8.13 میٹر رہ گئی ہے ۔ اس طرح جملہ 21.27 میٹرس کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ آر سی پورم علاقہ میں بھی کافی بہتر تبدیلی آئی ہے ۔