حیدرآباد میں مرکزی اسکیمات کے تحت تعمیر کردہ مکانات کے الاٹمنٹ میں تاخیر

   

ہڈکو سے قرض کا حصول، ڈبل بیڈ روم مکانات کے معاملہ میں حیدرآباد کا کمزور مظاہرہ
حیدرآباد۔/24 اگسٹ، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مرکزی اسکیم جواہر لال نہرو نیشنل اربن رینول مشن کے تحت 20 ہزار مکانات کی مرمت کیلئے ہاوزنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( ہڈکو ) سے 140 کروڑ کا قرض حاصل کیا لیکن 20 برس گزرنے کے باوجود ڈبل بیڈ روم مکانات الاٹ نہیں کئے گئے۔ گزشتہ سات برسوں کے دوران ٹی آر ایس حکومت نے غریبوں میں 3660 مکانات کی تقسیم عمل میں لائی ہے جبکہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں تقریباً 60 ہزار مکانات تعمیر کئے گئے اور الاٹمنٹ کیلئے تیار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی کے حکام اور ریوینو ڈپارٹمنٹ کو استفادہ کنندگان کے انتخاب میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جی او نمبر 3 مورخہ 6 نومبر 2020 کے تحت استفادہ کنندگان کے انتخاب کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے۔ مرکز یا ریاستی حکومت کی کسی بھی ہاوزنگ اسکیم سے استفادہ کرنے والے افراد ڈبل بیڈ روم اسکیم کے اہل نہیں ہوں گے۔ جی او کے مطابق مرکزی اسکیمات سے استفادہ کرنے والے 23 ہزار افراد ریاستی اسکیم کیلئے غیر اہل قرار پائے جبکہ انہوں نے 2001 سے 2005 کے درمیان ابتدائی رقم جمع کرادی ہے لیکن انہیں ابھی تک مکان الاٹ نہیں کیا گیا۔ عہدیداروں کے مطابق جے این این یو آر ایم اور آر جی اے اسکیمات کے تحت گزشتہ 15 برسوں میں 64300 مکانات تعمیر کئے گئے۔ ان میں سے 45945 مکانات الاٹ کئے گئے جبکہ 18355 ابھی خالی ہیں۔ 8090 مکانات تعمیر کے مراحل میں ہیں۔ وامبے اسکیم کے تحت 3969 مکانات کو استفادہ کنندگان میں الاٹ کرنا باقی ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی اسکیمات کے تحت تعمیر کردہ مکانات کے غیر معیاری ہونے کے سبب کئی مرمتی مسائل پیدا ہوچکے ہیں اور ہڈکو نے مکانات کی مرمت کیلئے 140 کروڑ روپئے جاری کئے۔ ایک طرف ریاستی تو دوسری طرف مرکزی اسکیمات کے تحت تعمیر کردہ مکانات کے الاٹمنٹ میں عہدیداروں کا غیر سنجیدگی کا رویہ غریبوں کیلئے تکلیف کا باعث بن چکا ہے۔R