حیدرآباد میں کریڈٹ و ڈیبٹ کارڈس کے استعمال میں کمی

   

یو پی آئی ادائیگی میں اضافہ، تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( ایجنسیز ) : حیدرآباد میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈس کے استعمال میں کمی ہوئی ہے لیکن شہر میں ہونے والی معاملتوں میں یو پی آئی ادائیگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ ایک اسٹیڈی میں یہ بات بتائی گئی ۔ ریزر پے یو پی آئی پلیٹ فارم کی جانب سے جنوری اور ستمبر کے درمیان کی گئی اسٹیڈی ’ دی ایرا آف رائزنگ فن ٹیک ‘ کی رپورٹ کے مطابق کارڈس کے استعمال میں گذشتہ سہ ماہی کے مقابل 11% تک کمی ہوئی اور یو پی آئی میں 58% کا اضافہ ہوا ہے ۔ کریڈیٹ اور ڈیبٹ کارڈس P2M سگمنٹ میں بہت بڑے کانٹری بیوٹرس ہیں ۔ جے اے ایس میں ان کا حصہ تقریبا 41% ہوتا ہے اس کے بعد یو پی آئی ( 39% ) اور نیٹ بینکنگ (18%) گوگل پے نہایت ترجیحی یو پی آئی اپلیکیشن برقرار ہے جس کا جے اے ایس 59% کا کانٹری بیوشن ہے ۔ اس رپورٹ میں جو بات معلوم ہوئی ہے وہ جنوری تا ستمبر ریزر پے یو پی آئی پلیٹ فارم پر ہونے والی معاملتوں پر مبنی ہے ۔ جے اے ایس میں حیدرآباد کی ڈیجیٹل معاملتوں میں حصہ ادا کرنے والے ٹاپ 3 شعبے ہیں ۔ فینانشیل سروسیس (23%) ، فوڈ اینڈ بیوریج (18%) اور یوٹیلٹیز (10%) ۔ تلنگانہ میں سب سے زیادہ ڈیجیٹل معاملتیں حیدرآباد میں ہوئیں اس کے بعد سکندرآباد ، کھمم ، کریم نگر ، ورنگل اور پالونچہ میں ۔ حیدرآباد میں ایس ایم ایز میں بھی پے منٹ لنکس اور پے منٹ پیجس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ اس رپورٹ میں ہندوستان میں فنیٹک ایکوسسٹم کے تیزی سے وسعت کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں ۔ ہندوستان میں ڈیجٹائزڈ شہروں کی فہرست میں بنگلورو سرفہرست ہے اس کے بعد حیدرآباد ، دہلی ، ممبئی اور پونے ہیں ۔۔