حیدرآباد میں کورونا ٹیکہ اندازی کیلئے عنقریب 6 خصوصی مراکز کا قیام

   

شہر کے اطراف 4 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس ، چیف سکریٹری نے ٹیکہ اندازی کیمپ کا افتتاح کیا
حیدرآباد۔/12 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف سکریٹری سومیش کمار نے خواجہ گوڑہ اسپورٹس کامپلکس میں کورونا کے میگا ٹیکہ اندازی کیمپ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر سکریٹری ہیلت مرتضیٰ علی رضوی، کلکٹر رنگاریڈی اموئے کمار، ڈائرکٹر پبلک ہیلت سرینواس راؤ، ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن، زونل کمشنر جی ایچ ایم سی اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔ اس موقع پر چیف سکریٹری نے کہا کہ کیر انڈیا ادارہ کے تعاون سے میگا ٹیکہ اندازی کیمپ منعقد کیا گیا ہے جس میں روزانہ صبح 7 بجے تا رات 11 بجے ویکسین حاصل کرنے کی سہولت رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور ضعیف العمر افراد کیلئے خصوصی کاؤنٹر قائم کئے گئے ہیں۔ چیف سکریٹری کے مطابق کوویکسین اور کووی شیلڈ کے ٹیکے دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 2.80 کروڑ افراد کی ٹیکہ اندازی مکمل کرلی گئی ہے۔ حیدرآباد میں مزید 6 میگا ٹیکہ اندازی کیمپ منعقد کئے جائیں گے تاکہ صد فیصد افراد کا احاطہ کیا جاسکے۔ چیف سکریٹری نے بتایا کہ دسہرے کے موقع پر تمام بڑے سرکاری دواخانوں میں مریضوں کے تیمار داروں کیلئے خصوصی شیلٹرس کا آغاز ہوگا ۔ اس کے علاوہ رعایتی شرحوں پر ناشتہ ، لنچ اور ڈِنر سربراہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کے ساتھ آنے والے تیمارداروں کو قیام اور طعام کے سلسلہ میں عام طور پر مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے تمام بڑے سرکاری دواخانوں کے قریب شیلٹرس کی نشاندہی کی ہے۔ چیف سکریٹری کے مطابق تلنگانہ میں 2.02 کروڑ افراد نے کورونا کی پہلی خوراک حاصل کرلی ہے۔ روزانہ 3 تا 4 لاکھ افراد کو ویکسین کی خوراک دی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ ماہ تلنگانہ کیلئے ایک کروڑ ویکسین کی خوراک سربراہ کی گئی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایت پر شہر کے چاروں اطراف سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔ ہاسپٹل کے ڈیزائن کی تیاری کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گچی باؤلی میں تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسیس کارکرد ہے جبکہ مزید تین سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کیلئے اراضی کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس پنجہ گٹہ کو عالمی سطح کی عصری میڈیکل انفرااسٹرکچر سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت دی ہے۔ چیف سکریٹری نے کہا کہ 25 لاکھ افراد کو کورونا کی دوسری خوراک حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔ر