پٹیل مارکٹ ، چوک ، گوشہ محل ، پرانا پل میں جی ایچ ایم سی کی بلڈوزر کارروائی ، رات کے اندھیرے میں انہدام پر تاجرین برہم
حیدرآباد۔4۔اپریل(سیاست نیوز) ناجائز قبضوں کی برخواستگی کے نام پر حیدرآباد میں ’بلڈوزرراج‘ چلایا جانے لگا ہے! دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے مختلف علاقوں میں کمشنر بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر آروی کرنن کی نگرانی میں گوشہ محل ‘ جامباغ‘ محبوب چوک ‘ مدینہ بلڈنگ ‘ حسینی علم ‘ پرانا پل کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر فٹ پاتھ پر قبضہ جات کو برخواست کرنے کی مہم کا آغاز کیاگیا ہے۔ دویوم قبل شاستری پورم کے علاقہ میں’حیدرا‘ کی نگرانی میں کئی گئی بڑے پیمانے پر انہدامی کاروائی کے بعد اب شہر میں فٹ پاتھ اور سڑکوں پر کئے جانے والے قبضہ جات کی برخواستگی کے نام پر پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں چھوٹے تاجرین کو بے روزگار کرنے کے ساتھ ساتھ رات دیر گئے پرانے شہر کے اہم تجارتی مرکز’پٹیل مارکٹ‘‘ میں بڑے پیمانے پر انہدامی کاروائی کے ذریعہ دکانات کے سامنے موجود چبوتروں اور سائبان کو پوری طرح سے منہدم کردیا گیا۔ پرانے شہر کے علاقوں میں صبح کی اولین ساعتوں کے دوران بلڈوزر کاروائیوں کا یہ نیا سلسلہ شروع کیاگیا ہے جو کہ عوام کے حقوق کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ جامع مسجد چوک کے روبرو موجود محبوب چوک پارک کے اطراف موجود چھوٹے تاجرین کو مکمل طور پر برخواست کرنے کے کاروائی کے ذریعہ تاجرین کو بلڈوزکی مدد سے بے روزگار کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے صبح کی اولین ساعتوں میں 4 بجے سے مدینہ بلڈنگ پٹیل مارکٹ میں موجود زائد از400 دکانات کے سائبان اور چبوتروں کو پوری طرح سے منہدم کردیا اس کے بعد اس کاروائی کو جاری رکھتے ہوئے محبوب چوک کے علاقہ میں جامع مسجد چوک کے روبرو ’باغ‘ کے اطراف چھوٹی دکانات کو بلڈوزر کے ذریعہ منہدم کردیا گیا اور ان تاجرین کو اپنے سامان کی منتقلی کا موقع تک فراہم نہیں کیاگیا۔ بعد ازاں جی ایچ ایم سی کی نگرانی میں محبوب چوک تا پرانا پل براہ حسینی علم سڑک کے دونوں جانب قبضہ جات کے خاتمہ اور انہیں برخواست کرنے کی کاروائی انجام دی گئی ۔ متاثر ہونے والے تاجرین بالخصوص چھوٹے کاروباری افراد نے بتایا کہ بلدیہ کی جانب سے انہیں کوئی نوٹس نہیں دی گئی اور نہ ہی انہیں تخلیہ کی تاکید کی گئی بلکہ رات کے اندھیرے میں کی گئی اس کاروائی سے وہ راتوں رات بے روزگار ہوچکے ہیں۔ پٹیل مارکٹ میں تلنگانہ وقف بورڈ کے 400 کرایہ داروں کے خلاف موقوفہ جائیداد میں کی گئی اس کاروائی کے متعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے وقف بورڈ کو بھی مطلع نہیں کیا بلکہ وقف بورڈ کے عملہ کو بھی اس کاروائی کے بعد پتہ چلا کہ’’وقف بورڈ ‘‘ کی خانگی جائیداد میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے بڑے پیمانے پر کاروائی کرتے ہوئے کرایہ داروں کی تعمیرات کو نقصان پہنچایا ہے۔ مکہ مدینہ وقف کے تحت موجود اس مارکٹ سے تلنگانہ وقف بورڈ کوکروڑہا روپئے وصول طلب ہیں لیکن وقف بورڈ نے تاحال ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے وقف بورڈ کو مطلع کئے بغیر بورڈ کی جائیداد میں اس قدر بڑے پیمانے پر کاروائی پر خاموشی اختیار کی جائے۔ اسی طرح پرانے شہر میں محبوب چوک پارک کی تزئین نو کے بعد حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ پارک کے اطراف موجود چھوٹے تاجرین کو محبوب چوک مرغی مارکٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کے بعد اس کامپلکس میں جگہ فراہم کی جائے گی لیکن کئی برس گذرنے کے باوجود محبوب چوک میں تاریخی مارکٹ کی جگہ پر مجوزہ کامپلکس کی تعمیر کا سلسلہ شروع نہیں ہوپایا ہے۔بتایا جاتاہے کہ دونوں شہروں میں فٹ پاتھ پر کئے جانے والے ناجائز قبضہ جات کو برخواست کرنے کے اقدامات کو بلدیہ نے تیز کرنے کافیصلہ کیا ہے اور آج کی گئی انہدامی کاروائی کا کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر آروی کرنن نے دورہ کرتے ہوئے جائزہ لیا۔ذرائع کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے فٹ پاتھ پر موجود قبضہ جات کی برخواستگی کے لئے خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے لیکن اس مہم کے دوران غریب تاجرین بالخصوص چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے شدید متاثرہونے کا خدشہ ہے ۔ پرانے شہر کے علاوہ سکندرآباد میں مونڈہ مارکٹ ‘ یوسف گوڑہ اور دیگر علاقوں میں بھی یہ مہم چلائی گئی جس سے چھوٹے تاجرین کا کاروبار متاثر ہوا ۔3