حیدرآباد کا نام تاریخ میں کبھی بھی بھاگیہ نگر نہیں تھا

   

بھاگ متی کا وجود فرضی ، دکن ہیرٹیج ٹرسٹ کے انکشافات
حیدرآباد۔5۔ جنوری (سیاست نیوز) دکن ہیرٹیج ٹرسٹ نے حیدرآباد کے نام کو بھاگیہ نگر میں تبدیل کرنے کی مہم کی مذمت کی ہے۔ ٹرسٹ نے واضح کیا کہ حیدرآباد شہر کا نام کبھی بھی بھاگیہ نگر نہیں رہا اور اس سلسلہ میں تاریخی دستاویزات موجود ہیں۔ کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی ،کنگ شک ناتھ اور دوسروں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے آر ایس ایس کے حیدرآباد میں اجلاس کے موقع پر حیدرآباد کے بجائے بھاگیہ نگر درج کرنے پر سخت اعتراض کیا۔ کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی نے کہا کہ بھاگیہ نگر کے بارے میں کوئی تاریخی دستاویز موجود نہیں ہے جبکہ عربی ، فارسی اور قطب شاہی دور کے دستاویزات اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر کا نام ابتداء سے حیدرآباد تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھاگ متی کا کوئی وجود نہیں ہے اور یہ محض ایک ذہنی اختراع ہے۔ فرضی کہانی کے ذریعہ یہ تاثر دیا گیا کہ قلی قطب شاہ اور بھاگ متی میں عشق ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھاگ متی کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی نے تاریخی دستاویزات اور ایک قدیم سکہ پیش کیا جس پر حیدرآباد کندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلی قطب شاہ نے جس وقت حیدرآباد کو بسایا تھا اس وقت شہر کا نام حیدرآباد ہی رکھا گیا۔ تاریخی شواہد کے اعتبار سے 12 سال کی عمر میں قلی قطب شاہ کو اقتدار حاصل ہوا۔ پرانا پل کی تعمیر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قلی قطب شاہ کی عمر ساڑھے آٹھ سال تھی ، جب انہوں نے عشق کیا تھا۔ پانڈو رنگا ریڈی نے کہا کہ عشق کی داستان محض فرضی ہے ۔ ممتاز مورخ ہارون خاں شیروانی نے تحقیق کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ بھاگ متی کا کوئی وجود نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی چارمینار کے دامن میں مندر کا وجود نیا ہے۔ اس سلسلہ میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے مندر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مکتوب جاری کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ہائیکورٹ میں مقدمہ زیر دوران ہے۔ ر