حیدرآباد : گچی باؤلی، ریتی باؤلی، دودھ باؤلی، پتلی باؤلی، گنگا باؤلی، ہری باؤلی، ہاتھی باؤلی، انجن باؤلی یہ باؤلیوں کے نام رہ گئے ہیں جو شہر میں ہوا کرتی تھیں۔ ان میں زیادہ تر باؤلیوں کا اب شہر میں وجود نہیں ہے لیکن ہیریٹیج اور پانی سے متعلق ایک نیا شعور، ایک نئی آگہی پیدا ہوئی ہے اور لوگ شہر میں قدیم باؤلیوں (Stepwells) کو دیکھنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ چنانچہ چند دن قبل پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق اور شہری ترقی اروند کمار نے گڈی ملاپور علاقہ میں واقع ایک خانگی باؤلی (Stepwell) کی فوٹو کو ٹوئیٹ کیا جس کی محکمہ کی مدد سے صفائی کی گئی اور اسے بحال کیا گیا۔ انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ ’’حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے گڈی ملکاپور میں بھگوان داس باغ باؤلی کی صفائی کی گئی۔ ہم اس پر روشنی کا انتظام کریں گے تاکہ ہیریٹیج ؍ باؤلی کے شائقین اس کی تصاویر لے سکیں۔ انہوں نے اس باؤلی کے اطراف و اکناف میں رہنے والوں سے اس کی صفائی کو یقینی بنانے اور اس میں کچرا ڈالنے والوں پر نظر رکھنے کی بھی خواہش کی‘‘۔ گولی پورہ علاقہ میں پرورش پائیں اودیش رانی نے کہا کہ ’’حیدرآباد میں کئی باؤلیاں تھیں لیکن وہ میرے وقت سے قبل بھر گئیں۔ پتلی باؤلی کا نام اس لئے پڑا کیونکہ اس کے قریب سنگ مرمر کا ایک مجسمہ تھا اور لوگوں نے اس باؤلی کو یہ نام دیا تھا۔ دودھ باؤلی کا نام دودھ باؤلی اس لئے پڑا کیونکہ شہر کے مضافاتی علاقوں سے دودھ فروخت کرنے والے لوگ پرانے شہر میں فتح دروازہ کے قریب دودھ بیچنے کیلئے اس باؤلی پر پہنچتے تھے۔ یہ وقت کا تقاضہ ہیکہ جو کچھ بھی ہیریٹیج کا ہم تحفظ کرسکتے ہیں وہ کریں‘‘۔ کوہِ مولا علی عاشورخانہ کے دامن میں مہہ لقا بائی چندا کے مقبرہ کے اندرونی حصہ میں موجود دو باؤلیاں (Step Wells) تقریباً دس سال قبل ان کی صفائی اور بحالی کے بعد اب استعمال میں ہیں۔ پہاڑی شریف میں بالاجی مندر میں ایک باؤلی ہے۔ سیتارام باغ مندر کے اندر بڑی باؤلی سیاحوں کیلئے کشش کا باعث ایک سیاحتی مرکز بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس باؤلی سے مندر کو پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ ایک اہم دریافت میں باپو گھاٹ کے اندر ایک باؤلی (Step Well) کی دریافت ہے۔ اس باؤلی کی صفائی اور اسے بحال کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ شہر میں عالمی یوم آب کے موقع پر واٹر ہیریٹیج کی حامل قدیم باؤلیوں کی صفائی، بحالی اور ان کا تحفظ کرنے کی کوشش بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔