شام 6 بجے کے بعد اضافی رائے دہی، 2018 کے مقابلہ کم ووٹنگ
حیدرآباد ۔یکم۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی چناؤ کیلئے عوام بالخصوص سرکاری اور خانگی اداروں کے ملازمین کو موقع فراہم کرنے کیلئے الیکشن کمیشن نے دو روزہ تعطیلات کا اعلان کیا تھا لیکن دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے 15 اسمبلی حلقہ جات میں رائے دہی کا فیصد مایوس کن رہا ۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ تعطیلات کے باوجود عوام نے رائے دہی میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور 2018 ء اسمبلی چناؤ کے مقابلہ کم رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ اسمبلی حلقہ جات عنبر پیٹ ، بہادر پورہ ، چندرائن گٹہ ، چارمینار ، گوشہ محل ، جوبلی ہلز ، کاروان ، خیریت آباد ، ملک پیٹ ، مشیر آباد ، نامپلی ، صنعت نگر ، سکندرآباد ، سکندرآباد کنٹونمنٹ اور یاقوت پورہ اسمبلی حلقہ جات میں سے صرف 4 حلقہ جات میں رائے دہی 50 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی جبکہ باقی میں 50 فیصد سے کم رائے دہی رہی۔ شام 6 بجے تک مذکورہ اسمبلی حلقہ جات میں رائے دہی کا فیصد اوسطاً 27 تا 40 فیصد درج کیا گیا ۔ تاہم بعد میں رائے دہی کے فیصد میں اضافہ ہوا۔ عنبرپیٹ میں 50.52 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی جبکہ بہادر پورہ 44.86 ، چندرائن گٹہ 45 ، چارمینار 41.45 ، گوشہ محل 54.93 ، جوبلی ہلز 45.20 ، کاروان 46.50 ، خیریت آباد 51.31 ، ملک پیٹ 41 ، مشیر آباد 49.61 ، نامپلی 42.76 ، صنعت نگر 50.71 ، سکندرآباد 49.60 ، کنٹونمنٹ 49.40 اور یاقوت پورہ میں 39.67 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ مذکورہ حلقہ جات میں 2018 ء کے مقابلہ رائے دہی کم رہی۔ شام 6 بجے تک یاقوت پورہ میں 27.87 فیصد ، بہادر پورہ 39.11 ، چندرائن گٹہ 39 ، چارمینار 34.02 ، گوشہ محل 45.79 ، کاروان 40.49 ، نامپلی 32.40 ، جوبلی ہلز 44.20 ، خیریت آباد 45.50 ، عنبر پیٹ 40.69 ، ملک پیٹ 36.90 اور مشیر آباد میں 40.24 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔ مقررہ وقت گزرنے کے بعد مزید رائے دہی ہوئی جس کے نتیجہ میں فیصد میں اضافہ ہوا۔