بابری مسجد مقدمہ کے فیصلہ کے پیش نظر ، سوشیل میڈیا ، پیغامات رسانی اور ٹیلی فون ریکارڈنگ
حیدرآباد۔8نومبر(سیاست نیوز) بابری مسجد مقدمہ کا فیصلہ آئندہ ہفتہ کسی بھی دن سنائے جانے کا امکان ہے اور سپریم کورٹ کے احکام کے مطابق مرکزی حکومت کے علاوہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے متعدد احتیاطی اقدامات کئے جانے لگے ہیں جن میں سوشل میڈیا پر نظررکھنے اور فون پر کی جانے والی گفتگو ریکارڈ کئے جانے جیسے فیصلے بھی شامل ہیں۔ بابری مسجد مقدمہ کی حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو ہدایت دے رکھی ہے کہ وہ ان لوگوں پر سخت نگاہ رکھیں جو اسطرح کی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں علاوہ ازیںعوام شہریوں کے فون کالس کو بھی ریکارڈ کرنے کی محکمہ پولیس کو اجازت دئیے جانے کی اطلاع ہے تاکہ احتجاج یا جشن کی صورت میں فوری کاروائی کو یقینی بنایاجاسکے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے بھی بابری مسجد فیصلہ پر کسی طرح کا ردعمل ظاہر نہ کیا جائے اس سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنایاجارہا ہے ۔ شہر حیدرآباد جو کہ ملک کے حساس شہروں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے اسی لئے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے کئی شہروں اور اضلاع میں بھی سخت صیانتی انتظامات کئے جانے کا امکان ہے ۔ محکمہ پولیس کے ذرائع کے مطابق سائبر سیکیوریٹی اور دیگر شعبہ جات کو بھی متحرک رکھا گیا ہے تاکہ سوشل میڈیا بالخصوص واٹس اپ‘ فیس بک اور ٹوئیٹر پر کئے جانے والے تبصروں کا جائزہ لیا جاتا رہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کی جانب سے اتر پردیش کے اعلی عہدیداروں کو طلب کئے جانے کے بعد ملک کی دیگر ریاستوں میں محکمہ پولیس اور انتظامیہ بھی متحرک ہوچکا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اترپردیش کے اعلی عہدیداروں کو طلب کئے جانے کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ سپریم کورٹ اس مسئلہ کی حساس نوعیت اور فیصلہ کے بعد کے حالات کا اندازہ کرچکی ہے اور ان حالات میں ملک کی دیگر ریاستوں کو بھی احتیاطی اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔حکومت تلنگانہ کے وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی کی جانب سے ریاست میں امن وامان کی برقراری کی اپیل اور مختلف تنظیموں اور اداروں کی جانب سے بھی امن و امان کی برقراری کی اپیلوں پر مثبت ردعمل ظاہر کیا جانے لگاہے اور ہر گوشہ سے ان اپیلوں کی سراہنا کرنے کے علاوہ حکومت سے خواہش کی جارہی ہے کہ وہ بھی فیصلہ کی صورت میں احتجاج‘ جشن اور کسی بھی طرح کے شدید ردعمل کو روکنے کیلئے اقدامات کرے تاکہ شرانگیزی کو روکا جاسکے ۔