سوریا کمار سے ایک اور برق رفتار اننگز متوقع
کپتان روہت شرما اور آخری اوورس کی بولنگ ممبئی کیلئے پریشان کن
ممبئی: پانچ بار کی چمپئن ممبئی انڈینس اتوارکو یہاں آسان نظر آنے والی ٹیم سن رائزرس حیدرآبادکیخلاف بڑے فرق سے فتح کے لیے بے چین ہوگی، جو اس سال کی انڈین پریمیئر لیگ میں ان کا آخری مقابلہ بھی ہوسکتا ہے۔جب کہ حیدرآباد پہلے ہی پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے۔ ممبئی انڈینز جن کے پاس ایک آخری موقع باقی ہے کہ وہ اس سیزن میں اب تک وانکھیڑے اسٹیڈیم میں اپنے بہترین مقابلہکا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور اہلیت کے اپنے امکانات کو تقویت دینے کے خواہاں ہوں گے۔ چارفتوحات اور دو شکستوں کے ساتھ ممبئی نے یقینی طور پر اپنے ہوم گراؤنڈ کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے، جسے روہت شرما کے کھلاڑی جاری رکھنا چاہیں گے کیونکہ ان کے پاس اپنے نیٹ رن ریٹ کو بہتر بنانے کا آخری موقع بھی ہے۔ راجستھان رائلزکے برعکس جنہوں نے 14 پوائنٹس اور 0.148 کے اعلی رن ریٹ کے ساتھ لیگ راؤنڈ ختم کیا ہے، ممبئی انڈینز ایک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں اور 16 پوائنٹس کے ساتھ پہلے مرحلے کو ختم کرسکتے ہیں لیکن انہیں بڑی کامیابی بھی ضروری ہے۔ فی الحال چوتھے نمبر پر رائل چیلنجرز بنگلور کو بہتر موقف میں قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کا ممبئی (-0.128) اور راجستھان سے بہتر رن ریٹ 0.180 ہے۔اگر وہ گجرات ٹائٹنز سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو آر سی بی بھی دو اہم پوائنٹس حاصل کر سکتا ہے، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ فاف ڈو پلیسی کی ٹیم کو معلوم ہوگا کہ انہیں اس وقت بالکل کیا ضرورت ہے کیونکہ وہ اتوار کی شام بعد میں لیگ راؤنڈ کا آخری مقابلہ کھیلیں گے۔ ممبئی انڈینزکے امکانات مضبوط ہو جائیں گے اگر وہ جیت جاتے ہیں اور آر سی بی ہار جاتے ہیں، جبکہ اگر وہ دونوں اتوار کو اپنے اپنے مقابلے جیت جاتے ہیں، تو رن ریٹ کھیل میں آئے گا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ شکست ممبئی کے امکانات کو ختم کر دے گی۔آئی پی ایل پلے آف کی دوڑ شاید اس سال سب سے زیادہ شدید رہی ہے، لیگ راؤنڈ کے آخری دو دنوں نے پلے آف کے چار میں سے تین مقامات کا تعین نہیں ہوا ہے ۔اس معاملے میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے امکانات انتہائی کم ہیں، جب کہ دہلی کیپٹلس، پنجاب کنگز اور سن رائزرز حیدرآباد پہلے ہی دوڑ سے باہر ہوچکے ہیں۔ روہت کی قیادت والی ٹیم کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ مواقع ضائع نہ کرے جیسا کہ انھوں نے پچھلے دو مقابلوں میں کیا تھا، جس سے گجرات ٹائٹنزکو شکست کے فرق کوکافی حد تک کم کرنے کا موقع ملے گا جبکہ لکھنؤ سوپر جائنٹس سے پانچ رنز سے شکست ہوئی تھی اور دو پوائنٹس سے محروم ہوگئے تھے۔ اس مرحلے پرممبئی کو آر سی بی اور راجستھان دونوں سے اوپر رکھا ہوتا۔ممبئی کی سب سے بڑی پریشانی، ان کے ہوم گراؤنڈ پر ان کی بولنگ رہی ہے جس نے 200 سے زیادہ رنز چار مرتبہ دیا ہے اور آر سی بی کے خلاف تقریباً پانچواں اسکور ہوتا جس کی وجہ سے ان کے بیٹرس شدید دباؤ میں ہیں۔کئی مواقع پرممبئی نے آخری اوورس میں ناقص بولنگ سے مقابلوں میں اپنی گرفت گنوائی ہے ۔ روہت کے گرم اور سرد فام میں ہونے کے باوجود ممبئیکی بیٹنگ نے مشکل کاموں کو آسانی کے ساتھ ختم کیا ہے اور سوریا کمار یادو، ٹم ڈیوڈ، کیمرون گرین، ایشان کشن اور نہال وڈھیرا جیسے کھلاڑیوں سے توقع کی جائے گی کہ وہ حیدرآبادی بولروں کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کریں ۔ روہت نے اپنے آخری دو مقابلوں میں 18 گیندوں پر 29 اور 25 گیندوں میں 37 رنز کے ساتھ فارم میں واپسی کی کوشش کی۔ ممبئی امید کرے گا کہ ان کے کپتان اہم مقابلے میں بڑا کام کرے ۔ تاہم کھونے کے لیے کچھ نہیں ہونے کے ساتھ حیدرآباد کا مقصد کامیابی پر ایونٹ ختم کرنا ہوگا۔ ہینرک کلاسن کی شاندار سنچری اس آئی پی ایل میں حیدرآباد کے لیے بہت دیر سے آئی لیکن انہوں نے اس بات کی ایک جھلک دی کہ وہ بیٹنگ میںکیا کرسکتے ہیں۔