حیدرآباد کے سیلاب متاثرین کیلئے مرکز نے ایک پیسہ بھی جاری نہیں کیا

   

بی جے پی قائدین اپنا محاسبہ کریں ، تلنگانہ حکومت نے 550 کروڑ جاری کئے ، مئیر بی رام موہن
حیدرآباد :۔ مئیر حیدرآباد بی رام موہن نے مرکز پر حیدرآباد کے سیلاب کے متاثرین کے لیے ایک روپیہ امداد نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے تلنگانہ کو تنقید کا نشانہ بنانے سے پہلے اپنا محاسبہ کرلینے کا مرکزی مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی کے علاوہ بی جے پی کے قائدین کو مشورہ دیا ۔ مئیر حیدرآباد نے آج اسمبلی حلقہ اپل کے حبشی گوڑہ میں مقامی رکن اسمبلی بی سبھاش ریڈی کے ساتھ سیلاب کے متاثرین میں حکومت کی امداد تقسیم کی ۔ اس موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بی رام موہن نے کہا کہ بارش اور سیلاب کے متاثرین میں راحت کاری کے اقدامات کے لیے مرکزی حکومت ایک روپیہ کی بھی مدد نہیں کی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے 550 کروڑ روپئے جاری کئے ۔ مہلوکین کے ورثا میں 5 لاکھ روپئے بطور ایکس گریشیا تقسیم کئے گئے ۔ جن کے مکان مکمل منہدم ہوگئے ہیں انہیں ایک لاکھ روپئے اور جزوی نقصان پہونچنے والے مکانات کو فی کس 50 ہزار روپئے امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ تمام متاثرین کو فی خاندان 10 ہزار روپئے تقسیم کئے جارہے ہیں ۔ اب تک ہزاروں خاندانوں میں امداد تقسیم کی گئی ہے ۔ جی کشن ریڈی مرکزی وزیر ہے اور حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں وہ مرکز سے فوری امداد کی اجرائی میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ مگر تلنگانہ حکومت پر من گھڑت الزامات عائد کررہے ہیں ۔ بی جے پی کے دوسرے قائدین بارش اور سیلاب سے جو جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس فوری اقدام سے گریٹر حیدرآباد کے عوام بالخصوص متاثرین پوری طرح مطمئن ہیں اور آہستہ آہستہ شہر حیدرآباد میں عام زندگی بحال ہوگئی ہے ۔۔