روزنامہ سیاست اور بلدیہ شیراز کے زیر اہتمام تصویری نمائش کا افتتاح
ریاستی وزیر کے بشمول قونصل جنرل ایران آقا مہدی شاہ رخی اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔12اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد اور ایران کے مشترکہ تہذیبی ورثہ پر ہمیں فخر ہے اور حکومت تلنگانہ اپنی تہذیبی روایات کا نہ صرف تحفظ کرنے کے عہد کی پابند ہے بلکہ وہ ریاست میں اس مشترکہ تہذیب کو فروغ دینے کے حق میں ہے۔ریاستی وزیر سیاحت مسٹر وی سرینواس گوڑ نے قونصل خانہ ایران متعینہ حیدرآباد ‘ روزنامہ سیاست اور بلدیہ شیراز کے زیر اہتمام منعقدہ تصویری نمائش کا افتتاح انجام دینے کے بعد شرکاء سے خطاب کے دوران اپنے خیالات کا اظہا ر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے ایرانی طرز تعمیر کی شکاہکار عمارتوں کے تحفظ اور انہیں سیاحتی مراکز کے طور پر فروغ دینے کے اقداما ت کئے جا رہے ہیں۔ریاستی وزیر سیاحت مسٹر وی سرینواس گوڑ نے ہند۔ایران دیرینہ تعلقات اورمشترکہ تہذیبی ورثہ کے علاوہ شہریوں کے درمیان تعلقات کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی قدیم اور مستحکم ہیں۔انہوں نے قونصل خانہ ایران کی جانب سے بلدیہ شیراز کے تعاون سے اس نمائش کے اہتمام کو تعلقات میں استحکام میں مزید پیشرفت قرار دیا۔ اس افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی پروفیسر عین الحسن‘ قونصل جنرل ایران متعینہ حیدرآباد آقا مہدی شاہ رخی‘ جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست کے علاوہ ڈاکٹر اے ناگیندر ڈائرکٹر سالار جنگ میوزیم و دیگر موجود تھے۔ قونصل جنرل ایران متعینہ حیدرآباد آقا مہدی شاہ رخی نے اس تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ خواجہ محمد شمس الدین حافظ شیرازی ایک عالمی شہرت یافتہ خداترس بزرگ شخصیت تھی اور دنیا بھر میں ان کے قرآن مجید کے فارسی میں منظوم ترجمہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آقا مہدی شاہ رخی نے بتایا کہ عالمی سطح پر حافظ شیرازی کے طرز پر شاعری کرنے والا کوئی شاعر موجود نہیں ہے۔ انہو ںنے ایران کے شہر شیراز کی تصویری نمائش کے سلسلہ میں کہا کہ بلدیہ شیراز اور روزنامہ سیاست کے تعاون سے شہر شیراز کی تاریخی عمارتوں کی اس نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ایران کے قدیم ترین ثقافتی شہروں میں شیراز کا شمار ہوتا ہے اور عام طور پر اسے ایران کے دوسرے خوبصورت ترین شہر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ قونصل جنرل ایران نے بتایا کہ شیراز میں تفریح کی غرض سے دنیا بھر کے سیاح آتے ہیں۔ پروفیسر عین الحسن وائس چانسلرنے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران خواجہ محمد شمس الدین حافظ شیرازی کی ادب میں خدمات اور فارسی شاعری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حافظ شیرازی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔م