حیدرآبادشہر کے متعدد علاقوں میں سربراہی آب میں کٹوتی

,

   

موسم گرما اور رمضان کے باعث عوام کو پانی کی تکلیف ، عوامی نمائندوں کو فوری توجہ دینے کی ضرورت
حیدرآباد۔29 اپریل(سیاست نیوز) پرانے شہر کے کئی علاقو ںمیں پینے کے پانی کی سربراہی میں کٹوتی کی جا نے لگی ہے اور موجودہ لاک ڈاؤن کی صورتحال میں پانی کی کٹوتی سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ پرانے شہر کے علاقوں فلک نما‘ جہانما‘ چندرائن گٹہ‘ حافظ بابا نگر ‘ مصری گنج کے علاوہ دیگر علاقوں میں پینے کے پانی کی سربراہی میں کی جانے والی کٹوتی کے متعلق عوام نے شکایت کی کہ سابق میں جو پینے کے پانی سربراہی عمل میں لائی جاتی تھی وہ گھروں کے لئے کافی ہوا کرتی تھی لیکن اب جبکہ موسم گرما عروج پر ہے‘ ماہ رمضان المبارک جاری ہیں اور لاک ڈاؤن کے سبب لاکھوں افراد خاندان مکمل گھر میں نظر بند ہیں ایسے میں پانی کی سربراہی کے وقت میں کٹوتی کے علاوہ پریشر بھی کم کردیا گیا ہے جو کہ عوام کیلئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہونے لگا ہے۔ پینے کے پانی کی سربراہی میں کی جانے والی کمی کے متعلق عہدیداروں سے دریافت کرنے پر عہدیداروں نے اس بات کی توثیق کی کہ شہر حیدرآباد میں پینے کے پانی کی سربراہی میں کمی کی جا رہی ہے کیونکہ موسم گرما کے سبب پانی کے استعمال میں احتیاط لازمی ہے اور حکومت کی جانب سے کئے جانے والے پالیسی ساز فیصلہ کے مطابق ایسا کیا جا رہاہے۔ مذکورہ علاقوں کی عوام نے اس بات کی شکایت کی کہ سابق میں جہاں 2گھنٹے پانی سربراہ کیاجاتا تھا اب ان علاقو ںمیں 45منٹ پانی سربراہ کیا جا رہاہے اسی لئے پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کوئی ذرائع نہ ہونے کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شہر حیدرآباد کے کئی علاقوں میں نلوں کے ذریعہ سربراہ کئے جانے والے پانی پر شہریوں کا انحصار ہے

اور شہریوں کو نلوں کے ذریعہ حاصل ہونے والے پانی سے ہی پینے کے لئے اور استعمال کیلئے پانی حاصل کرنا پڑتا ہے لیکن اب جبکہ 45منٹ سے ایک گھنٹہ پانی سربراہ کیا جا رہا ہے تو انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی لئے حکومت اور مجاز عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ پالیسی کی تیاری یا اس پر عمل آوری کے اصولوں میں عوام کی سہولت کا بھی خیال رکھیں کیونکہ حکومت کی پالیسی عوام کے لئے ہوتی ہے اور عوام کو جب پینے کیلئے پانی ہی نہ ملے اور شہریوں کو حکومت گھرو ں میں بند رہنے کیلئے کہتی رہے تو ایسا کس طرح ممکن ہوپائے گااس بارے میں بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ مدینہ کالونی فلک نما ‘ ماڈل ٹاؤن کالونی جہانما‘وٹے پلی ‘ نواب صاحب کنٹہ اور تیگل کنٹہ کے علاقوں میں بھی پینے کے پانی کی شدید قلت ریکارڈ کی جا رہی ہے اور اس قلت سے نمٹنے کیلئے حکومت اور محکمہ آبرسانی کو نئی پالیسی اختیار کرنا لازمی ہے کیونکہ اب تک پانی کی قلت کی صورت میں لوگ عوامی نلوں کے علاوہ پینے کے پانی کے استعمال کیلئے دیگر ذرائع کا استعمال کیا کرتے تھے لیکن اب جو صورتحال ہے اس سلسلہ میں پانی کی قلت سے نمٹنے کیلئے اقدامات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور موسم گرما کے دوران کی جانے والی پانی کی سربراہی میں کٹوتی کو لاک ڈاؤن کی مدت تک کم از کم ختم کیاجانا چاہئے کیونکہ تمام افراد کے گھروں میں ہونے کے سبب پانی کا استعمال بھی وافر مقدار میں ہوا کرتا ہے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی کے پریشر اور سربراہی کے وقت کو فوری بحال کرنے کے اقدامات کئے جانے ناگزیر ہیں اور منتخبہ عوامی نمائندوں کوبھی چاہئے کہ وہ اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کے اقدامات کریں۔