حیدرآباد میں مفت پانی کی سربراہی اسکیم پر عمل آوری میں دشواریاں

   


آدھار سے لزوم اور میٹرس کی کمی ، دہلی میں اسکیم کا جائزہ لینے عہدیداروں کا دورہ

حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میں شہریوں کو پانی کی مفت سربراہی سے متعلق اسکیم پر عمل آوری کی راہ میں کئی دشواریاں دکھائی دے رہی ہیں۔ گریٹر بلدی انتخابات کے موقع پر ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں شہریوں کو ماہانہ 20,000 لیٹر پانی کی سربراہی کا وعدہ کیا تھا ۔ انتخابات کے بعد حکومت نے وعدہ کی تکمیل کرتے ہوئے احکامات جاری کئے لیکن اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ کو حکومت کے رہنمایانہ خطوط کا انتظار ہے۔ اسکیم سے استفادہ کیلئے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ حکومت کی یہ شرط قابل عمل دکھائی نہیں دیتی کیونکہ عوام آدھار تفصیلات فراہم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ ہائی کورٹ نے جائیدادوں کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں آدھار تفصیلات کے حصول کی مخالفت کی ہے ۔ ایسے میں پانی کی سربراہی کیلئے آدھار تفصیلات طلب کرنا حکومت کیلئے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے آدھار کی شرط کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہر گھر کو وعدہ کے مطابق 20 ہزار لیٹر پانی سربراہ کیا جانا چاہئے ۔ حکومت کے لئے دوسری رکاوٹ میٹرس کی قلت ہے۔ شہر میں 50 فیصد سے زائد مکانات ایسے ہیں جن میں پانی کا میٹر موجود نہیں۔ میٹرو واٹر ورکس کس حساب سے ان مکانات کو پانی سربراہ کرسکتا ہے۔ عہدیداروں نے اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں دشواریوں سے حکومت کو واقف کرایا ہے۔ اسی دوران حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے عہدیداروں کی ٹیم عنقریب نئی دہلی روانہ ہوگی جہاں مفت پانی کی سربراہی اسکیم پر عمل آوری کا جائزہ لیا جائے گا ۔ کجریوال حکومت دہلی جل بورڈ کے ذریعہ مفت پانی کی سربراہی اسکیم پر عمل کر رہی ہے۔ دہلی میں اسکیم پر عمل آوری کے طریقہ کار اور جل بورڈ کو نقصانات کی پابجائی کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ عہدیداروں کی ٹیم دہلی کے تجربہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میں عمل آوری کے لئے گائیڈ لائینس طئے کرے گی ۔ اسکیم پر عمل آوری کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ گائیڈ لائینس اور قواعد کو طئے کرنے میں کم از کم ایک ماہ لگ جائے گا۔