میڈیا میں گشت خبروں پر اظہار افسوس ، تلنگانہ آئی پی ایس آفیسرس اسوسی ایشن کا بیان
حیدرآباد ۔ 10 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ آئی پی ایس آفیسرس اسوسی ایشن نے آئی اے ایس آفیسرس اسوسی ایشن کے ساتھ اپنی واضح یکجہتی کو برقرار رکھتے ہوئے بعض میڈیا پلیٹ فارمس کے ذریعہ نشر کئے جانے والے غیر ذمہ دارانہ ، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز نشریات کی سخت مذمت کی ۔ جس میں خدمات انجام دینے والی خواتین آئی اے ایس افسران کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے ۔ اسوسی ایشن اس واقعہ کو کردار کے قتل کی ایک دانستہ کوشش کے طور پر دیکھتی ہے جو صحافت کی آڑ میں سنسنی خیز اور بے عزتی کے واحد ارادے کے ساتھ کی گئی ۔ غیر مصدقہ دعوؤں ، من گھڑٹ بیانیہ اور انتظامی عمل کی منتخب تحریف کے ذریعے خواتین افسران کو نشانہ بنانا نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ ایک گہرے رجعت پسند اور غلط ذہنیت کی عکاسی بھی کرتا ہے ۔ اس طرح کی کارروائیاں آئینی حکمرانی ، قانون کی حکمرانی اور عوامی خدمت کے وقار کے بنیاد پر ضرب لگاتی ہیں ۔ تمام سرویسز میں خواتین افسران اپنے فرائض دیانتداری ، ہمت اور پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ ادا کررہی ہیں ۔ اکثر مشکل حالات میں قیاس آرائیوں ، لیک یا من گھڑت مواد کے ذریعے ان کی ساکھ کو خراب کرنا اور پوسٹنگ یا ذاتی طرز عمل کے بارے میں اشتعال انگیزی انتہائی غیر اخلاقی ، قانونی طور پر ناقابل برداشت اور اخلاقی طور پر ناقابل دفاع ہے ۔ یہ کارروائیاں ادارہ جاتی حوصلے کو پست کرتی ہیں ۔ حکمرانی پر عوام کا بھروسہ ختم کرتی ہے اور جمہوری اداروں کو کمزور کرتی ہیں ۔ اسوسی ایشن نے کہا کہ نشر کئے گئے الزامات جھوٹے ، بدنیتی پر مبنی اور حقائق سے عاری تھے ۔ نشریات پرائیویسی ، وقار اور حاضر سرویس افسران کی پیشہ وارانہ ساکھ کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔ اس طرح کی رپورٹنگ میڈیا کے ذریعے ٹرائل کی تشکیل کرتی ہے جو قانون کے زیر انتظام آئینی جمہوریت میں جائز نہیں ہے ۔ اسوسی ایشن آئی اے ایس آفیسرس اسوسی ایشن کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے ۔ جس میں ڈیجیٹل اور سوشیل میڈیا سمیت تمام پلیٹ فارمس سے ہتک آمیز مواد کو واپس لینے کے علاوہ متعلقہ میڈیا ہاوسز سے فوری اور غیر مشروط عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ آئی پی ایس آفیسرس اسوسی ایشن نے یہ بھی انتباہ دیا کہ کوئی بھی میڈیا ہاوس یا فرد حاضر سرویس افسران کے خلاف بے بنیاد ، ہتک آمیز یا من گھڑت مواد پھیلانے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی ۔۔ ش
