حیدرآباد ۔ 2 اکٹوبر (سیاست نیوز) ورنگل میں ایک 27 سالہ خاتون کی عصمت ریزی، دھوکہ دہی اور دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت ایک کارپوریٹر کے شوہر اے شریش کو جمعہ کے دن اعظم جاہی ملز کالونی پولیس نے گرفتار کیا۔ انہیں ایڈیشنل فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے پاس پیش کیا گیا جنہوں نے اسے 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی جانب سے جو ایک ایم ٹیک ڈگری ہولڈر ہے، شکایت درج کروانے کے بعد 23 ستمبر کو اس شخص کے خلاف تعزیرات ہند کے مختلف دفعات کے تحت ایک کیس درج کیا تھا۔ شکایت میں اس خاتون نے کہا کہ شریش نے شادی کے نام پر اس کے ساتھ دھوکہ کیا اور سیکس کیلئے بھی اسے مجبور کیا۔ اس نے مبینہ طور پر دوپاکنٹہ میں اس کی زمین فروخت کرنے اور 90 لاکھ روپئے کی رقم اسے دینے کیلئے بھی اس خاتون کو مجبور کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ اس رقم کو بزنس میں لگائے گا۔ کہا گیا کہ اس نے اس خاتون کے سونے کے زیورات اور کریڈٹ کارڈس کا بھی استعمال کیا۔ بعد میں اس خاتون کو معلوم ہوا کہ شریش پہلے سے شادی شدہ ہے اور اسے ایک بیٹی ہے۔ جب اس نے اس سے سوالات کرنے شروع کئے اور اس سے شادی کرنے کی خواہش کی تو اس نے نہ صرف اس کی اس بات کو مسترد کردیا بلکہ اسے سنگین عواقب و نتائج کی دھمکی بھی دی۔ متاثرہ خاتون اس سال 20 اگست کو شریش کے گھر گئی اور اس پر زور دیا کہ کم از کم وہ اس کی رقم واپس کردے۔ اس خاتون نے کہا کہ ’’اس نے اس کے والد سدھاکر کے ساتھ مجھے گالیاں دیں اور اس کے والد نے اس سے مجھے ایک قانونی نوٹس بھیجنے کیلئے کہا‘‘۔ اس نے کہا کہ بعد میں وہ مصالحت کیلئے ایک نیوز چینل رپورٹر اور ایک شخص سے رجوع ہوئی اس کے بعد شریش نے صرف اس کے سونے کے زیورات واپس کئے۔ اس کے بعد وہ پولیس سے رجوع ہوئی اور شریش اور اس کے والد کے خلاف ایک شکایت درج کروائی اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی۔ پولیس عہدیداروں نے شریش کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا۔ عدالت کی ہدایت کے بعد اسے پرکال جیل منتقل کیا گیا۔