خاتون کے ساتھ رنگ رلیاں ، سب انسپکٹر معطل

   

تحقیقات کے بعد پولیس کمشنر کی کارروائی، واقعہ کی پردہ پوشی کی کوشش ناکام
حیدرآباد۔ ریسارٹ میں رنگ رلیاں منانے والے ایک پولیس عہدیدار کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ خفیہ اطلاع پر کارروائی کرنے والی پولیس اس وقت حیرت زدہ رہ گئی جب ریسارٹ میں ایس آئی کے ساتھ خاتون موجود تھی اور دونوں ریسارٹ میں رنگ رلیاں منارہے تھے۔ دھاوا کرنے والی کیسرا پولیس نے دونوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا تاہم پہلے پولیس نے اس واقعہ کو مکمل فراموش کرنے کی کوشش کی اور اپنے ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار کی اس حرکت کی پردہ پوشی کی تاہم جیسے ہی اطلاع کمشنر پولیس تک پہنچی کمشنر نے جامع تحقیقات کے بعد سب انسپکٹر پولیس انیل کو معطل کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کل سب انسپکٹر انیل خاتون کانسٹبل کے ساتھ کیسرا حدود میں واقع سائیلنٹ ریسارٹ میں خاموشی سے رنگ رلیاں منارہا تھا۔ پولیس کیسرا نے اطلاع کے فوری بعد جال بچھا کر اس ریسارٹ پر دھاوا کیا اور سب انسپکٹر کو خاتون کانسٹبل کے ساتھ حراست میں لے لیا۔ تاہم اس ایس آئی کے ساتھ جو خاتون موجود تھی اس کی شناخت نہیں ہوپائی ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ عام خاتون تھی پولیس کانسٹبل نہیں تھی۔ کانسٹبل انیل کافی شہرت رکھتا ہے اور اختیارات کا بے جا استعمال جب چاہے اپنی مرضی کے مطابق کرتا ہے۔ وردی کا رعب جمانا اور وردی کے دم پر اپنی خواہشات کو پورا کرنا، بدعنوانیاں جیسے الزامات سے اس سب انسپکٹر کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ سابق میں ایس آئی انیل نے ایک شخص کو اس طرح اذیت دی تھی اور بے جا مقدمہ میں پھانسا تھا۔ اس سب انسپکٹر پولیس کی اس حرکت سے پولیس محکمہ میں تشویش پیدا ہوگئی۔