نئی دہلی : کانگریس لیڈر و رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور گوتم اڈانی کے درمیان تعلقات پر پھر ایک بار بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ راہول گاندھی نے پوچھا کہ کیا ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا مقصد اڈانی جی کو امیر بنانا ہے؟ راہول نے کہا کہ پچھلے 9 سال سے مودی جی نے ملک کو ’بھرم‘ میں رکھا اور اڈانی جی کو ’وشوا بھرمن‘ (دنیا کی سیر) میں! انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا بیرون ملک جانا اور اڈانی کی نئی بزنس ڈیل ہونا کوئی اتفاق نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی راہول نے الزام لگایا کہ ’موڈانی ‘نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو فارن ڈیل پالیسی بنا دیا ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ حکومت نے خارجہ پالیسی سے متعلق پارلیمنٹ میں پوچھے گئے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ راہول نے پھر اپنے سوال کو دہرایا اور کہا کہ اُمید ہے کہ اس بار ہم وطنوں کو تمام سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔ راہول نے پوچھاکہ اڈانی جی وزیراعظم کے ساتھ کتنے غیر ملکی دوروں پر گئے؟پی ایم کے سرکاری دورے کے بعد اڈانی جی کتنے ملکوں کو گئے؟ وزیراعظم کے جانے کے بعد کتنے ممالک میں تجارتی معاہدے ہوئے؟راہول گاندھی نے یوٹیوب پر ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے اپنے دعوے کو درست ثابت کرنے کے ثبوت بھی دیئے ہیں۔ اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے غیر ملکی دورے کے بعد اڈانی نے کہاں اور کتنے سودے کئے تھے۔اس دورے میں سری لنکا ، بنگلہ دیش، آسٹریلیا اور اسرائیل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ راہول نے مرکزی حکومت پر سری لنکا میں پروجیکٹس کے لئے اڈانی گروپ کے حق میں ’لابنگ‘ کرنے اور کاروباری گروپ کو اہم پڑوسی ملک پر مسلط کرنے کا الزام لگایا۔ ساتھ ہی بنگلہ دیش میں پاور پروجیکٹ کے معاہدے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے۔