خانگی اسکولوں میں فیس کے حصول کیلئے آن لائین کلاسس کا آغاز

   

3 ماہ کی فیس ادا کرنے پر اصرار، طلبہ اور سرپرستوں میں تشویش کی لہر، شکایت درج کروانے محکمہ تعلیم کا مشورہ
حیدرآباد۔ 3 جون (سیاست نیوز) کورونا لاک ڈائون کے نتیجہ میں حکومت نے تاحال نئے تعلیمی سال کے آغاز کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا لیکن خانگی اور کارپوریٹ اسکولوں میں آن لائین کلاسس کے نام پر اپنے تعلیمی سال کا عملاً آغاز کردیا ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے اسکولوں کو بند رکھنے سے اسکول انتظامیہ نے مالی مسائل کا بہانہ بناکر ٹیچرس کی مکمل تنخواہیں ادا نہیں کیں۔ اب جبکہ جون میں تعلیمی سال کے آغاز کا کوئی امکان نہیں ہے لہٰذا اسکولوں نے آن لائین کلاسس کے نام پر سرپرستوں سے فیس کی وصولی کا آغاز کیا ہے۔ شہر میں زیادہ تر ایسے اسکول جو سی بی ایس سی اور آئی سی ایس سی سے مسلمہ ہیں، انہوں نے آن لائین کلاسس کا آغاز کرتے ہوئے صرف ایسے طلبہ کو استفادہ کا موقع فراہم کیا ہے جنہوں نے فیس کے بقایا جات ادا کردیئے ہیں۔ والدین کو اسکولوں کی جانب سے بقایا جات کی فی الفور ادائیگی کے پیامات روانہ کئے جارہے ہیں اور ٹیچرس کو ہدایت دی گئی کہ وہ آن لائین کلاسس میں صرف ان طلبہ کو شامل کریں جنہوں نے فیس ادا کی ہو۔ اسکولوں کی جانب سے جو پیامات روانہ کئے گئے ان میں کہا گیا ہے کہ جون کے پہلے ہفتے میں آن لائین کلاسس کا آغاز ہوگا اور مارچ، اپریل اور مئی کی فیس کے علاوہ بکس، یونیفارم اور دیگر ضروری اشیاء کی خریدی مکمل کرنے والے طلبہ کو استفادہ کا موقع رہے گا۔طلبہ اور سرپرستوں کو اسکولوں کے اس رویہ سے سخت اعتراض ہے کیوں کہ لاک ڈائون کے نتیجہ میں والدین معاشی دشواریوں کا شکار ہیں اور وہ بیک وقت تین ماہ کی فیس ادا کرنے کے موقف میں نہیں۔ نئے سال کے آغاز پر فیس کے علاوہ یونیفارم اور دیگر ضرورتوں پر بھاری مصارف ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک معیاری خانگی اسکول میں تعلیمی سال کے آغاز پر ایک طالب علم پر کم از کم 50 ہزار روپئے کا خرچ آتا ہے۔ حیدرآباد اسکولس پیرنٹس اسوسی ایشن نے فیس کی ادائیگی کے مطالبہ پر اعتراض کیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسکولوں کے اس رویہ پر کنٹرول کرے اور فیس کی وصولی سے روکنے کے احکامات جاری کرے۔ بعض سرپرستوں نے ٹوئٹر اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع سے اپنے مسائل کو پیش کیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اور وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں جائزہ اجلاس منعقد کریں۔ اسی دوران محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی اسکول فیس کی عدم ادائیگی پر طلبہ کو کلاسس میں شرکت سے نہیں روک سکتا۔ اگر اولیائے طلبہ شکایت درج کریں تو اسکول کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر وی وینکٹ نرسمہا نے کہا کہ اسکولوں کو فیس کے لیے اصرار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔