خانگی میڈیکل و ڈینٹل کالجس میں فیس اضافہ کے احکام کالعدم

   

تلنگانہ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، اندرون 30 دن اضافی فیس واپس کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/19 جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے خانگی پی جی، میڈیکل اور ڈینٹل کالجس میں تعلیمی سال 2017-2020 کے دوران حکومت کی جانب سے فیس میں اضافہ پر اعتراض جتایا ہے۔ چیف جسٹس ستیش چندر شرما کی زیر قیادت بنچ نے حکومت کی جانب سے فیس میں اضافہ سے متعلق 2017 میں جاری کردہ احکامات کو کالعدم کردیا۔ خانگی میڈیکل کالجس میں 2017 تا 2020 فیس میں اضافہ کرتے ہوئے 9 مئی 2017 کو حکومت نے جی او جاری کیا تھا۔ اس جی او کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں مفاد عامہ کی درخواست داخل کی گئی جس کی چیف جسٹس نے سماعت کی۔ درخواست گذار نے کہا کہ داخلوں اور فیس کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی سفارشات کے بغیر ہی حکومت نے یکطرفہ طور پر فیس میں اضافہ کا فیصلہ کرلیا۔ حکومت کے احکامات دراصل ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے درخواست گذار کے موقف سے اتفاق کیا اور فیس میں اضافہ سے متعلق سرکاری احکامات کو کالعدم کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ 2016-19 میں فیس ریگولیٹری کمیٹی کی جانب سے مقرر کردہ فیس وصول کی جائے۔ طلبہ سے زائد فیس وصول کرنے کی صورت میں اندرون 30 یوم واپس کرنے کالجس کو ہدایت دی گئی ہے۔ عدالت نے کورس مکمل کرنے والے طلبہ کے سرٹیفکیٹس کی اجرائی میں رکاوٹ پیدا نہ کرنے اور سرٹیفکیٹس کے ساتھ اضافی فیس واپس کرنے کی ہدایت دی گئی۔ خانگی میڈیکل اور ڈینٹل کالجس کے طلبہ کو ہائی کورٹ کے فیصلہ سے بڑی راحت ملی ہے۔ر