خانگی کمپنیوں کو ریل کرائے مقرر کرنے کی آزادی ہوگی:حکومت

,

   

اسٹیشنوں کو خوبصورت اور عصری بنانے کے علاوہ ٹرینوں کو آپریٹ کرنے کی مکمل ذمہ داری

جی ایم آر انفراسٹرکچر لمیٹیڈ اور اڈانی انٹرپرائزس لمیٹیڈ بھی دوڑ میں شامل

نئی دہلی : حکومت نے آج ایک ایسا اعلان کیا ہے جو یقینی طور پر عوام کے لئے زبردست جھٹکا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ خانگی کمپنیاںجب ملک میں ٹرین سرویس کا آغاز کریں گی تو اُنھیں اپنے کرائے مقرر کرنے کی مکمل آزادی ہوگی جو سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے ریلوے نظام کو دوبارہ شروع ضرور کیا ہے لیکن اب تک مسافرین ٹرین کے سفر سے گریز کررہے ہیں۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ ہندوستان میں ریل کے کرائے سیاسی طور پر بیحد حساس ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں ہر روز ٹرینوں میں جتنے مسافرین سفر کرتے ہیں اتنی تعداد میں آسٹریلیا کی آبادی ہے۔ یہی نہیں بلکہ درمیانی درجہ کے تاجرین بھی اپنے مال و اسباب کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کے لئے ریل نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک طرف جہاں ریلوں کو چلانے میں لاپرواہی اور نوکرشاہی کی شکایتیں عام ہیں وہیں مودی حکومت اس بات کی خواہاں ہے کہ خانگی کمپنیاں سامنے آئیں اور ریلوے اسٹیشنوں کو خوبصورت اور عصری بنانے کے علاوہ ریلوے کے پورے نیٹ ورک کو چلانے کی ذمہ داری بھی سنبھال لیں۔ ہندوستان کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور حالیہ دنوں میں (کوویڈ ۔ 19) یہ جس طرح ڈگمگائی ہے تو ایسا معلوم ہونے لگا ہے کہ یہ جلد اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوپائے گی۔ فی الحال ان پراجکٹس میں جن کمپنیوں نے اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے اُن میں
Alstom SA ، Bombardier Inc
، جی ایم آر انفراسٹرکچر لمیٹیڈ اور اڈانی انٹرپرائزس لمیٹیڈ شامل ہیں۔ صدرنشین ریلوے بورڈ وی کے یادو نے یہ بات بتائی۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ خانگی ٹرین آپریٹرس کو کرایوں کو مقرر کرتے وقت اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جن روٹس پر ٹرینیں چلائی جائیں گی اُن روٹس پر ایرکنڈیشنڈ بسیں اور ہوائی جہاز بھی چلائے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ کچھ دنوں قبل کلون ٹرین چلائے جانے کی خبریں بھی گشت کررہی تھیں جو ’’ویٹنگ لسٹ‘‘ مسافرین کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہوگی جیسے اگر ممبئی یا دہلی کی کوئی ٹرین اپنے مقررہ وقت پر نکل گئی ہے تو اُس ٹرین کے ویٹنگ لسٹ میں موجود مسافرین کے لئے اصل ٹرین کی روانگی کے کچھ گھنٹوں بعد کلون ٹرین چلائی جائے گی۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ اعلان واقعتاً حکومت کی جانب سے کیا گیا ہے یا محکمہ ریلویز کو خانگیانے کی جانب قدم بڑھائے جارہے ہیں۔