ملک میں 30 فیصد طلبہ کا خانگی کوچنگ سنٹرس پر انحصار، سرکاری سطح پر معیار تعلیم میں اضافہ کی ضرورت
حیدرآباد 3 مارچ (سیاست نیوز) تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات پر عمل آوری کے ذریعہ سرکاری سطح پر معیار تعلیم کو بہتر بنانے کی مساعی جاری ہے۔ مرکزی اور ریاستی سطح پر نئی تعلیمی پالیسی کو قطعیت دی گئی تاکہ سرکاری اور خانگی سطح پر طلبہ کو کلاس روم میں ہی بہتر قابلیت حاصل ہو اور اُنھیں خانگی کوچنگ پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ حالیہ برسوں تک بھی ملک بھر میں خاص طور پر شہری علاقوں میں مسابقتی امتحانات کے لئے طلبہ کو خانگی کوچنگ مراکز کا رُخ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اہم شہروں میں آج بھی پبلک سرویس کمیشن کے مختلف مسابقتی امتحانات کے علاوہ ملازمت سے متعلق کورسیس کی کوچنگ کے لئے مراکز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن پری پرائمری سطح سے خانگی کوچنگ کا رجحان سرکاری اور خانگی سطح پر تعلیمی معیار کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق شہری علاقوں میں ہر 4 میں ایک طالب علم ابتدائی سطح سے ہی خانگی کوچنگ حاصل کررہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیکنڈری سطح پر شہری علاقوں میں 38 فیصد طلبہ خانگی کوچنگ حاصل کررہے ہیں۔ پری پرائمری کی سطح پر فی طالب علم کوچنگ پر بھاری رقومات خرچ کررہے ہیں۔ قومی سطح پر کئے گئے سروے کے مطابق پری پرائمری سطح پر 525 روپئے سے بڑھ کر 6384 روپئے ہر طالب علم پر خرچ کئے جارہے ہیں۔ شہری علاقوں میں کوچنگ پر سالانہ 9950 روپئے کا خرچ درج کیا گیا ہے جو دیہی علاقوں کے مقابلہ میں دوگنا ہے۔ بیشتر طلبہ کوچنگ کے لئے اپنے والدین اور سرپرستوں پر انحصار کرنے کے لئے مجبور ہیں جبکہ دیگر طلبہ سرکاری اور خانگی سطح کی اسکالرشپ حاصل کررہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں پری پرائمری کی سطح پر 10.7 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 13.6 فیصد طلبہ کوچنگ حاصل کررہے ہیں۔ پرائمری سطح پر یہ تعداد دیہی علاقوں میں 21.6 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 26.6 فیصد درج کی گئی۔ سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری تعلیم کے شعبہ جات میں شہری اور دیہی علاقوں میں معمولی فرق دیکھا گیا ہے۔ سروے کے مطابق پری پرائمری تا اعلیٰ سطح تک شہری علاقوں میں 30.7 فیصد طلبہ خانگی سطح پر کوچنگ حاصل کررہے ہیں۔ خانگی کوچنگ سنٹرس میں بڑھتی مسابقت کے نتیجہ میں طلبہ پر اضافی بوجھ پڑرہا ہے اور ماہر ٹیچرس اور لیکچررس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے کوچنگ سنٹرس کے ذمہ دار من مانی فیس وصول کررہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسابقتی امتحانات میں خانگی کوچنگ سنٹرس کے طلبہ کے نتائج سرکاری اور خانگی کالجس سے بہتر ہیں۔ اگرچہ بعض گوشوں کی جانب سے کوچنگ سنٹرس کی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملی بھگت کے شبہات ظاہر کئے گئے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ امیدوار بہتر نتیجہ کی اُمید میں خانگی کوچنگ سنٹر سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں۔1