زائد چارجس کی شکایات پر حکومت کی کارروائی، حکومت کی جانب سے نئی شرحوں کا تعین
حیدرآباد: کورونا علاج کیلئے خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کی جانب سے زائد چارجس کی وصولی کے خلاف حکومت کی کارروائی کے نتیجہ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران خانگی ہاسپٹلس کو 72.2 لاکھ روپئے کی رقم واپس کرنی پڑی ۔ 30 کیسیس میں یہ زائد رقم مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو واپس کی گئی ۔ محکمہ صحت کو 350 شکایت موصول ہوئی تھی ، جس کی جانچ کرتے ہوئے 14 اضلاع کے 170 دواخانوں کے خلاف جانچ کی گئی ۔ زیادہ تر شکایات حیکدرآباد سے تعلق رکھنے والے دواخانوں کی تھی۔ حیدرآباد کے ہاسپٹلس کے خلاف 148 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ حیدرآباد کے بعد سب سے زیادہ شکایات میڑچل ملکاجگری ضلع سے موصول ہوئیں۔ رنگا ریڈی تیسرے نمبر پر رہا جبکہ ورنگل اربن ، محبوب نگر ، سنگا ریڈی اور کریم نگر سے بھی زیائد شکایات موصول ہوئیں۔ عوام نے شکایتوں کے ساتھ زائد چارجس کے دستاویزات داخل کئے تھے ۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت نے 22 دواخانوں کے کووڈ علاج کے اجازت ناموں کو منسوخ کردیا تھا۔ جنہیں بعد میں زائد چارجس واپس کرنے کی شرط پر بحال کیا گیا ۔ محکمہ صحت کے مطابق ابھی تک 33 شکایات کی یکسوئی کی گئی اور 72 لاکھ 20 ہزار 277 روپئے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو واپس دلائے گئے۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد حکومت نے حال ہی میں کورونا علاج اور معائنوں کے لئے شرحوں کا تعین کیا ہے۔ خانگی ہاسپٹل کا کہنا ہے کہ حکومت کی مقرر کردہ شرحوں پر کورونا کا بہتر علاج کرنا ممکن نہیں ہے۔