خواتین معاشرہ کے ستون: ممتا بنرجی ۔ حکومت خواتین سے خوفزدہ: التجا مفتی

,

   

عالمگیر سطح پر یوم عالمی خواتین ، کرغستان میں جلوس، خاتون کارکنوں کی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات
کولکتہ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے آج کہاکہ خواتین معاشرہ کی ستون ہیں۔ اُنھوں نے یاد دہانی کی کہ ریاستی حکومت نے کئی فلاحی اسکیمس جیسے کنیا شری اور روپا شری کا آغاز کیا ہے۔ اُنھوں نے خواتین کو بین الاقوامی یوم خواتین کی مبارکباد پیش کی جو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت کے اقدامات کنیا شری اور روپا شری خواتین کی فلاح و بہبود اور بااختیاری کے لئے وقف کردیئے گئے ہیں۔ حکومت مغربی بنگال خواتین کو مالی اعتبار سے بااختیار بنانا چاہتی ہے اِسی وجہ سے خواتین کے خود مددگار گروپس کی مالی امداد کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سواستیہ ساتھی ہیلت انشورنس کارڈس خواتین کے نام پر جاری کئے جارہے ہیں جس میں اُنھیں صدر خاندان تسلیم کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بین الاقوامی یوم خواتین ہر سال 8 مارچ کو خواتین اور طلبہ تحریک کی یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ تحریکیں خواتین کی مساوات کے لئے ہیں۔ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی کی دختر التجا مفتی نے کہاکہ حکومت خواتین سے خوفزدہ ہے اور وہ خواتین کی سیاحت کو ڈرامائی قرار دے رہی ہے۔ سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب التجا مفتی نے کہاکہ اُن کی والدہ کی گرفتاری کی وجہ جاننے کے لئے اُن کے ٹوئٹر کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے لیکن اُس میں کوئی تبدیلی یا کسی تقریب سے اُن کے خطاب میں یہ نہیں کہا گیا کہ حکومت نے غیرقانونی طور پر جموں و کشمیر کی خاتون اول یعنی چیف منسٹر محبوبہ مفتی کو غیرقانونی طور پر قید کردیا ہے۔ اِس کے باوجود حکومت ہند کا کہنا ہے کہ ناری شکتی کے بارے میں اُن کی باتیں درحقیقت ایک ڈرامہ ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ درحقیقت حکومت خواتین سے خوفزدہ ہے کیوں کہ وہ (محبوبہ مفتی) نہ صرف سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر ہیں بلکہ پی ڈی پی کی صدرنشین بھی ہیں۔ حکومت نے اُنھیں 5 اگسٹ سے مسلسل غیرقانونی حراست میں رکھا ہے جبکہ دستور کی دفعہ 370 منسوخ کی گئی اور ریاست کے دو حصے کرکے اُسے مرکز زیرانتظام علاقے قرار دیا گیا۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب بعض خاتون کارکنوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے اُن کے فیصلہ کی تعریف کی کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس خواتین کے سپرد کردیں گے۔ اُنھوں نے اِس اقدام کو حیرت انگیز قرار دیا اور کہاکہ وہ درحقیقت خواتین کی عزت کرنے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ سی پی آئی کی خاتون قائد نے کہاکہ اگر وزیراعظم کو درحقیقت خواتین کی بہبود کی فکر ہے تو اُنھیں تحفظات مسودہ قانون کی جلد از جلد منظوری کروانی چاہئے۔ دریں اثناء کرغستان سے موصولہ اطلاع کے بموجب کرغیس پولیس نے درجنوں خواتین کو گرفتار کرلیا جنھوں نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین پر مشتمل جلوس آج نکالا تھا اور اُن کے پلے کارڈس چاک کردیئے۔ مبینہ طور پر قبل ازیں پولیس نے اِن خواتین پر حملہ کیا تھا۔ دارالحکومت بشکیک کے وسطی علاقہ میں خاتون کارکنوں کی گاڑیاں بھی نذر آتش کردی گئیں۔ پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا لیکن حملہ آوروں کی شناخت نہیں کی جاسکی کیوں کہ وہ اپنے چہرے نقاب میں چھپائے ہوئے تھے۔ جاریہ ہفتہ کرغستان کی ایک عدالت نے مبینہ طور پر یکم جولائی سے تمام جلسوں اور جلوسوں پر امتناع عائد کردیا تھا۔