خودکشی کرنے والے انٹر طالب علم کے پسماندگان کو امداد

   

Ferty9 Clinic

اپوزیشن کی مساعی سے ایک لاکھ روپئے کے عطیات وصول
حیدرآباد۔31 ۔ جولائی (سیاست نیوز) انٹر نتائج میں دھاندلیوں کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے لواحقین کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ صدر تلنگانہ تلگو دیشم ایل رمنا نے آج دیگر اپوزیشن قائدین کی موجودگی میں خودکشی کرنے والے طالب علم پرشانت کے والد اور والدہ کو ایک لاکھ روپئے کا چیک حوالہ کیا۔ اس موقع پر تلگو دیشم پولیٹ بیورو رکن آر چندر شیکھر ریڈی، سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی، تلنگانہ جنا سمیتی کے پروفیسر پی ایل وشویشور راؤ ، کانگریس کے جنرل سکریٹری ونود ریڈی اور دوسرے موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایل رمنا نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو امداد فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے تساہل کے نتیجہ میں 25 سے زائد طلبہ نے خودکشی کرلی لیکن آج تک خاطیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پرچوں کی جانچ اور دیگر معاملات میں جس خانگی کمپنی کو ذمہ داری دی گئی تھی، اس کے خلاف سہ رکنی کمیٹی نے رپورٹ پیش کی لیکن حکومت نے رپورٹ کو نظر انداز کردیا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ میں بے قاعدگیوں پر حکومت کی خاموشی معنیٰ خیز ہے۔ نتائج میں دھاندلیوں کے سبب کئی خاندان اپنے ہونہار بچوں سے محروم ہوگئے۔ آر چندر شیکھر ریڈی نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں میں اپنے طور پر عطیات اکٹھا کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی امداد کا فیصلہ کیا ہے ۔ گزشتہ دنوں ایک متاثرہ خاندان کو سی پی آئی آفس میں ایک لاکھ روپئے کی امداد دی گئی۔ سی پی آئی قائد چاڈا وینکٹ ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کو عوامی مسائل کی یکسوئی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ تلنگانہ میں تعلیمی نظام کو تباہ کردیا گیا ۔