علماء مشائخین اور ملی تنظیموں کی مشترکہ اپیل
حیدرآباد ۔ 3 ۔ دسمبر : ( راست ) : 6 دسمبر 1992 کی تاریخ یقینا ملک کے سیکولر کردار پرایک سیاہ دھبہ ہے ۔ جس میں انتظامیہ ، پولیس اور فوج کے سامنے ظلم و زبردستی کر کے صدیوں قدیم بابری مسجد شہید کردی گئی ۔ پھر اسی قدر افسوس ناک 9 نومبر 2019 کا عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ہے جس میں دلائل تو مسلم فریق کے تسلیم کیے گئے لیکن فیصلہ دوسرے فریق کے حق میں دیا گیا ۔ اس لیے ہم تمام مسلمان بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ( 1 ) 6 دسمبر کو سب لوگ عہد کریں کہ ہم مسجدوں سے اپنا تعلق مضبوط کریں گے ۔ مسجدوں کو آباد کریں گے اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے مسجدوں اور دوسرے اسلامی مقدس مقامات کی پوری پوری حفاظت کریں گے ۔ ہمیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت پر پورا اطمینان ہے ، بورڈ جب بھی آواز دے گا ہم اس پر لبیک کہیں گے اور بورڈ نے مذکورہ فیصلہ پر جو نظر ثانی کی اپیل کی ہے ہم سب اس کی تائید کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس میں کامیابی عطا فرمائے ۔ (2) مساجد کے خطباء اس جمعہ کو اسی موضوع پر بیان کریں ، بابری مسجد کی سچی تاریخ لوگوں کے سامنے واضح کریں اور بتائیں کہ اگرچہ اس مسجد پر ظلماً قبضہ کرلیا گیا ہے لیکن وہ ابھی بھی شرعاً مسجد ہے اور قیامت تک مسجد رہے گی ۔ ( 3 ) اپنے غیر مسلم بھائیوں تک بھی سچائیوں کو پہنچانے اور جھوٹ کا پردہ فاش کرنے کی کوشش کریں ، کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں بسنے والی غیر مسلم بھائیوں کی اکثریت انصاف پسند اور امن پسند ہے البتہ غلط پروپگنڈوں کی وجہ سے بہت سے لوگ غلط فہمیوں میں مبتلا ہوگئے ہیں ان کی غلط فہمیاں دور کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ اس اپیل پر دستخط کرنے والے علماء مشائخین اور ملی تنظیموں کے سربراہوں میں جناب حامد محمد خاں جماعت اسلامی ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا غیاث الدین جمعیتہ العلماء ہند ، مولانا غیاث احمد رشادی صفا بیت المال ، مولانا مجاہد ہاشمی عوامی مجلس عمل ، مولانا سید صادق محی الدین ، جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان ، نائب صدر تعمیر ملت مولانا محمد ضیا الدین نیر ، مولانا محمد حسام الدین جعفر پاشاہ ، مولانا سید حامد حسین شطاری صدر آل انڈیا سنی علماء بورڈ ، مولانا محمد نصیر الدین ، مولانا سید شاہ مظہر حسینی ، مولانا طارق قادری صوفی اکیڈیمی قابل ذکر ہیں ۔۔