دائیں بازو کے ہندوطلباء کا برقعہ اور ٹوپی پر پابندی کا مطالبہ

   

ٹوپی اور برقعہ مذہب سے زیادہ تہذیبی شناخت: اے ایم یو طلبہ
علی گڑھ ۔ 12 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء کے ایک گروپ نے مقامی انتظامیہ سے شکایت کی ہے کہ دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے کالج سے کہا کہ وہ برقعہ اور سر پر ٹوپی پہننے پر پابندی لگادیں ۔ دائیں بازو کے طلباء کے قائد امیت گوسوامی اور دیگر ط لباء نے دھرم سماج ڈگری کالج کے چیف پروکٹر کو ایک یادداشت دی ہے کہ اگر انتظامیہ 72 گھنٹوں میں کوئی کارروائی کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو وہ طلباء میں زعفرانی ملبوس پہننے کی تحریک چلائیں گے اور طلباء جماعتوں میں زعفرانی ملبوس پہن کر حاضر ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا لباس پہننے سے کالج میں نااتفاقی اور تفرقہ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور یہ طریقہ کالج کے لباس پہننے کے ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے ۔ دریں اثنا اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے علی گڑ ھ مسلم یونیو رسٹی کے طلباء کے ایک گروپ نے جمعرات کو ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ کو ایک یادداشت پیش کی ہے اور سیدھے بازو کے طلباء کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوںن ے برقعہ اور سر کی ٹوپی پر پابندی لگانے کے مطالبہ کو مذہبی منافرت پھیلانے والا اقدام کہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برقعہ اور ٹوپی ان کی ثقافت کا حصہ ہے اسے صرف مذہبی علامت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے ۔