داخلہ امتحانات پر بے چینی میں روز اضافہ

,

   

ہم صحیح تم غلط ، تم غلط ہم صحیح
نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی کے سہارے حکومت کی پیشرفت ۔ اپوزیشن اور طلبہ یونین مخالفت پر اٹل
نئی دہلی : انجینئرنگ اور میڈیسن کے مختلف کورسیس میں داخلوں کے لیے ملک گیر امتحانات
NEET
اور
JEE-Main
کا آئندہ ماہ انعقاد ہر گذرتے دن کے ساتھ پیچیدہ ، متنازعہ اور سیاسی معاملہ بنتا جارہا ہے ۔ ایک بات طئے ہے کہ نقصان ہوگا تو بنیادی طور پر طلبہ برادری کا نقصان ہوگا ۔ مرکزی حکومت کی طرف سے وزیر تعلیم رمیش پوکھریال بار بار بیان دے رہے ہیں کہ نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی کی رہنمائی میں امتحانات کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں اور کوویڈ ۔ 19 کے تناظر میں تمام تر احتیاطی اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین جے ای ای اور نیٹ کے مسئلہ کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں ۔ لیکن انہیں ضرور سوچنا چاہئے کہ ان امتحانات کو بلاوجہ ملتوی کرنے کی صورت میں سرکاری خزانہ کو 4,800 کروڑ روپئے کا نقصان ہوسکتا ۔ دوسری طرف 6 اپوزیشن زیر اقتدار ریاستوں کے نمائندوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ کورونا وائرس کے موجودہ ناسازگار حالات میں اس طرح کے داخلے امتحانات کو منعقد کرنا ہرگز ٹھیک نہیں ۔ انہوں نے کئی ریاستوں میں سیلاب کی صورتحال کے سبب درپیش مشکلات کا حوالہ بھی دیا ۔ نیٹ اور جے ای ای میں زائد از 20 لاکھ امیدوار شرکت کرنے والے ہیں ۔ جمعہ کو کانگریس ، ٹی ایم سی ، جے ایم ایم ، این سی پی اور شیوسینا نے سپریم کورٹ سے رجوع ہو کر کہا کہ موجودہ وقت ان امتحانات کے انعقاد کیلئے ٹھیک نہیں تاہم نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی نے 13 ستمبر کو نیٹ اور یکم تا 6 ستمبر انڈر گریجویٹ انجینئرنگ کالجس اور انسٹی ٹیوٹس کیلئے جے ای ای امتحانات منعقد کرنیکا فیصلہ کیا ہے ۔