اندرون 4 ہفتہ جواب داخل کرنے مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کو عدالت کی ہدایت
حیدرآباد۔24ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے دارالشفاء میں واقع نیاز خانہ پر ناجائز قبضہ کو روکنے کی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس قیمتی اوقافی جائیداد کو ناجائز قابضین سے محفوظ رکھتے ہوئے اندرون 4ہفتہ جواب داخل کرے۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس آر ایس چوہان اور جسٹس اے ابھیشیک ریڈی پر مشتمل بنچ نے سی ای او وقف بورڈ ‘کمشنر جی ایچ ایم سی ‘ ڈپٹی کمشنر جی ایچ ایم سی چارمینار سرکل اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں اور حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اندرون 4ہفتہ جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ دارالشفاء کے مقامی باشندہ سید اصغر نے چیف جسٹس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ مسئلہ پیش کیا تھا جسے چیف جسٹس نے درخواست مفاد عامہ کے طور پر قبول کرتے ہوئے اس کی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سید اصغرحسین نے چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس بات سے مطلع کیا تھا کہ دارالشفاء میں موجود عزاء خانہ زہرا ء کے تحت ’’ نیاز خانہ ‘‘ پر ناجائز قبضہ کی کوشش کی جا رہی ہے اور ناجائز قابضین کی جانب سے جائیداد کی ملکیت کا دعوی کرتے ہوئے دستاویزات میں الٹ پھیر کر رہے ہیں اور ان فرضی دستاویز کی بنیاد پر مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد سے تعمیری اجازت بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس مکتوب میں درخواست گذار نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ گزٹ جو کہ 1989 میں شائع کیا گیا تھا اس میں نیاز خانہ کا تذکرہ موجود ہے اور اسے عزاء خانہ زہراء سے منسلک جائیداد قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود فرضی مالکانہ حقوق پر مشتمل دستاویزات کی بنیاد پر اس قیمتی اوقافی جائیداد کو جو کہ نظام ٹرسٹ ایکٹ 1950 میں شامل ہے پر ناجائز قبضہ کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مکتوب موصول ہونے کے بعد بنچ نے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا اور اندرون 4ہفتہ جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سید اصغر حسین نے اپنے مکتوب میں جسے عدالت نے درخواست مفاد عامہ کے طور پر قبول کیا ہے میں اس بات کا ادعا پیش کیا ہے کہ نیاز خانہ کی یہ عمارت تاریخی اہمیت کی حامل عمارت ہے اور اس عمارت کو منہدم کرتے ہوئے اس کی جگہ نئی تعمیرات کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے لئے فرضی دستاویزات کے استعمال کے ذریعہ عہدیداروں کو بھی گمراہ کیا جارہاہے اسی لئے وہ یہ درخواست روانہ کر رہے ہیں۔