جگتیال کے گنگا ریڈی کی حیدرآباد منتقلی کے لیے سفری اخراجات بھی برداشت کیے
حیدرآباد : دبئی کے ایک ہاسپٹل نے تلنگانہ کے ایک ورکر کی 3.4 کروڑ روپئے کی طبی اخراجات کی بل معاف کردی ۔ یہی نہیں بلکہ مزید بہتر علاج کے لیے جمعہ کے روز آبائی ریاست کو روانگی کے لیے ہوائی سفر کے اخراجات بھی برداشت کیے ۔ تفصیلات کے مطابق 53 سالہ کے گنگا ریڈی ساکن جگتیال ، تلنگانہ جو فالج کے حملہ سے بیمار ہوگیا اور گذشتہ 6 ماہ سے وہ کوما کی حالت میں تھا لیکن کچھ عرصہ سے اس کی صحت میں بہتری کے آثار دکھائی دئیے ۔ گنگا ریڈی کو فالج کا حملہ ہونے پر دبئی کے میڈی کلینک سٹی ہاسپٹل میں شریک کیا گیا تھا ۔ قونصل جنرل انڈیا دبئی نے ہاسپٹل کے اخراجات اور بل معاف کرنے میں مدد کی ۔ گلف ورکرس پروٹیکشن کمیٹی کے صدر جی نرسمہا نے یہ بات بتائی ۔ دبئی کے قونصل خانہ میں جمعہ کے روز ایک ٹوئیٹ کے ذریعہ اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ دبئی کے ہاسپٹل میں گنگا ریڈی کے علاج میں اس نے مدد کی ۔ جہاں وہ دسمبر 2020 سے زیر علاج تھا ۔ ہاسپٹل میں تقریبا 9 ماہ زیر علاج رہنے کے بعد جمعہ کو گنگا ریڈی کو بذریعہ طیارہ حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ شمس آباد منتقل کیا گیا جہاں سے ایر ایمبولنس کے ذریعہ اسے نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس ( نمس ) پنجہ گٹہ پہونچایا گیا ۔ گنگا ریڈی دبئی کی ایک کمپنی میں لیبر کی حیثیت سے کام کررہا تھا۔ دبئی میں اس مریض کے طبی اخراجات اور بل معاف کرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے ۔ قبل ازیں جولائی 2020 میں بھی بیرونی ورکرس کے اخراجات معاف کیے گئے تھے ۔ اس مریض کا تعلق بھی ضلع جگتیال کے گولہ پلی منڈل سے تھا ۔ وی راجیش نامی تعمیری مزدور کو کورونا پازیٹیو پائے جانے پر دبئی ہاسپٹل میں شریک کیا گیا تھا ۔ 80 دنوں کے علاج کے بعد وہ صحت یاب ہوگیا اور اس کے طبی اخراجات 1.52 کروڑ روپئے ہوئے تھے جو معاف کردئیے گئے تھے ۔۔