حیدرآباد ۔ 2 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : دربار ہال ، جو شاہی حکومت کے دوران حیدرآباد میں برٹش ریزیڈنٹس کے لیے ایک نہایت اہم مقام ہوا کرتا تھا ۔ اب اس کی عظمت رفتہ بحال ہورہی ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کالج فار ویمن جو کوٹھی ویمنس کالج کے نام سے مشہور ہے کے احاطہ میں موجود اس اہم عمارت کے ایک بڑے اسٹوریشن پراجکٹ کا کام اب قطعی مراحل میں پہنچ گیا ہے اور کنزرویشن آرکیٹکٹس اور آرٹسٹس اس کام کو قطعیت دینے میں مصروف ہیں ۔ اس کی مرمت اور بحالی کا ایک نہایت اہم پہلو ، کٹی پیپر ماشی سیلنگ اس کے ہمہ رنگی فلاور اینڈ ویجیٹبل پیٹرنس اور گلڈیڈ بیڈنگس ہے جنہیں برسوں میں نقصان پہنچا ہے ۔ انہیں اب ان کی اصل حالت میں بحال کیا گیا ہے ۔ دربار ہال پر کام کرنے والے ایک کنزرویشن آرکیٹکٹ لیتیش نے کہا کہ ’ سیلنگس کے صرف نقصان زدہ حصوں کی ہی مکمل طور پر مرمت کی گئی اور انہیں بحال کیا گیا ہے ۔ سیلنگس کے علاوہ جنہیں برسوں میں نقصان پہنچا ہے ، اس ہال کے دوسرے ایرساس اب بھی اچھی حالت میں ہیں ۔ 50 فیٹ بلندی کے اس ہال میں شیشے کے جھاڑ اب بھی اچھے ہیں اس کے علاوہ آٹھ فیانس اب بھی چالو حالت میں ہیں ۔ اس ہال میں فلور برما کے ساگوان کی لکڑی کا بنا ہوا ہے ۔ دربار ہال حیدرآباد میں برٹش ریزیڈنسی کا حصہ تھا اور بعد میں اسے کوٹھی ویمنس کالج کی اصلی عمارت کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ برٹش ریزیڈنسی کی تعمیر موسیٰ ندی کے کنارے مدراس انجینئرس کے سیمیول رسیل نے کی تھی اور اس کا آغاز 1808 میں اس وقت کے برٹش ریزیڈنٹ جے اے کرپاٹرک کے لیے کیا گیا تھا ۔ دربار ہال کے علاوہ برٹش ریزیڈنسی میں گراونڈ فلور پر سات کمرے ہیں اور فرسٹ فلور پر نو کمرے ہیں ۔ اس عمارت کی پائیداری کے لیے اس کے دیواروں اور چھت کے نقصان والے حصوں کی مرمت کی جارہی ہے ۔ 200 سال سے زائد قدیم یہ عمارت ورلڈ مانو مینٹس فنڈ کی جانب سے فنڈنگ کی فہرست میں شامل اور محکمہ آثار قدیمہ و میوزیمس کے تحت ہے ۔ اس کے مرمتی اور بحالی کے کام جو 2015 میں شروع ہوئے توقع ہے کہ اس سال مکمل ہوں گے ۔ اس بلڈنگ کے ایک بڑے حصہ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے جب کہ چار کمرے کالج مینجمنٹ کے حوالہ کئے جائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق پرنسپل اور وائس پرنسپل کے آفسیس کو اس تاریخی عمارت میں منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ جب کہ بعض حصوں کو کلاسیس کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔۔