سلمان خورشید اور حذیفہ احمدی کی بحث مکمل، مخالف وکلاء کی آج بحث کا امکان
حیدرآباد۔/24 نومبر، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں آج مسلسل دوسرے دن درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کی وقف اراضی مسئلہ پر مقدمہ کی سماعت ہوئی۔ جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس وی رام سبرامنین پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کل سے سماعت کا آغاز کیا ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی اور متولی و منیجنگ کمیٹی کی جانب سے سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے آج بحث کی۔ حذیفہ احمدی نے کل سے اپنی بحث کو آج بھی جاری رکھتے ہوئے اوقافی اراضی کے حق میں کئی شواہد پیش کئے۔ بحث کے دوران ایک مرحلہ پر جسٹس سبرامنین نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ اراضی مشروط الخدمت ہے تو پھر یہ وقف قرار پائے گی۔ انہوں نے یہ بھی ریمارک کیا کہ وقف اراضی کے موقف کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ حذیفہ احمدی نے اپنی بحث کے دوران مختلف مقدمات کا حوالہ دیا جس میں عدالتوں نے وقف اراضی کے حق میں فیصلے دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اراضی کو سرکاری ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ یہ اراضی جاگیر نہیں بلکہ وقف ہے۔ جاگیر اراضی ثابت کرنے کیلئے حکومت نے ابھی تک کوئی نوٹیفکیشن بطور ثبوت داخل نہیں کیا ہے۔ سلمان خورشید نے وقف ترمیمی قانون کی تیاری میں مرکزی وزیر کی حیثیت سے اپنے رول کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت کو وقف اراضی پر دعویداری کا کوئی حق نہیں ہے۔ سینئر کونسل اعجاز مقبول نے حذیفہ احمدی کی اعانت کی۔ آج دن بھر وقف اراضی کے حق میں دلائل کی سماعت ہوئی اور حذیفہ احمدی کی بحث مکمل ہوگئی۔ توقع ہے کہ کل حکومت اور خانگی اداروں کے وکلاء کی بحث ہوگی جو وقف بورڈ کے دلائل کا جواب دیں گے۔ امکان ہے کہ سرکاری اور خانگی اداروں کی بحث ایک دن میں مکمل ہوجائے گی۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر ریوینو ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں کی ایک ٹیم موجود ہے جو اپنے وکلاء کی مدد کررہی ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ نے بھی وکلاء اور عہدیداروں کی ٹیم کو سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر موجود رکھا ہے۔ر