دریائے جمنا کو صاف کرنے کی کوششیں اب بھی ناکافی

   

متھرا: ہندو عقیدے سے وابستہ گنگا ندی کی معاون ندی جمنا کوچار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کے پانی کو شفاف پانے کی کوششیں ابھی تک کارگر ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔جمنا ندی کی دھارا کو صاف بنانے کے لئے تحریکیں چلائی گئیں۔ بیان بازی ہوئی یہاں تک کی عدالت کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا گیا لیکن نتائج صفر رہے ۔ اور مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔جمنا کی گندی کی وجہ دہلی، ہریانہ اور یوپی تھے لیکن اس کا حل صرف یوپی میں تلاش کیا جاتا رہا۔ اس مہم میں دہلی اور ہریانہ کو شامل کرنے کے لئے متھرا کی ایم پی ہیما مالنی نے اب پہل کرنے کا عزم کیا ہے ۔ وہ نہ صرف دہلی اور ہریانہ کے وزرائے اعلی سے ملیں گی بلکہ یہ بھی بتائیں گی کی متھر امیں اس مسئلے کا حل کس طرح سے کیا جارہا ہے ۔ادھر معروف ماحولیات دوست ایم سی مہتا نے اب سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی فائل کی ہے ۔ انہیں امید ہے کہ اس پر عدالتی آرڈر کے بعدحالات میں کچھ تبدیلی آسکتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک جو بھی کوششیں ہوئی ان کا نتیجہ اچھا نہیں ملا ہے ۔ افسوس تو ہے کہ جب جمنا کی حالت دیکھنے کے لئے وی وی آئی پی آتا ہے تو نالے بھی روک دئیے جاتے ہیں اور ندی میں اوپر سے پانی بھی چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن بعد میں صورتحال پہلے کی طرح ہوجاتی ہے ۔