دریائے کرشنا سے پانی کے حصول سے آندھرا پردیش کو روکا جائے

   

Ferty9 Clinic

اتم کمار ریڈی اور دیگر قائدین کی کرشنا ریور بورڈ صدر نشین سے ملاقات
حیدرآباد۔/14 مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ایک وفد نے اتم کمار ریڈی کی قیادت میں صدر نشین کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ چندر شیکھر ایر سے ملاقات کی اور ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے آندھرا پردیش حکومت کو دریائے کرشنا سے پانی کے حصول پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اتم کمار ریڈی کے علاوہ رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی، سمپت کمار، جی چنا ریڈی، ومشی چند ریڈی، ناگم جناردھن ریڈی، کونڈا وشویشور ریڈی، ٹی رام موہن ریڈی، جی پرساد کمار، ملوروی وفد میں شامل تھے۔ یادداشت میں صدرنشین کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کو آندھرا پردیش حکومت کے جی او 203 کا حوالہ دیا گیا جس کے تحت پوتی ریڈی پاڈو پراجکٹ کیلئے سری سیلم سے زائد پانی کے حصول کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جی او کے مطابق سری سیلم ذخیرہ آب سے روزانہ 3 ٹی ایم سی پانی حاصل کیا جائے گا۔ آندھرا پردیش حکومت کا یہ فیصلہ یکطرفہ ہے اور تنظیم جدید قانون کی خلاف ورزی ہے۔ کانگریس قائدین نے بتایا کہ دریائے کرشنا سے زائد پانی کے حصول کی صورت میں تلنگانہ کے کئی اضلاع خشک سالی کا شکار ہوجائیں گے۔ پینے کے پانی کے علاوہ زرعی شعبہ کیلئے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قائدین نے اندیشہ ظاہر کیا کہ حیدرآباد کو پینے کے پانی کی سربراہی متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اس معاملہ میں کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ جنوری میں یہ معاملہ منظر عام پر آیا لیکن چیف منسٹر کے سی آر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جگن سے دو مرتبہ ملاقات میں پوتی ریڈی پاڈو کا مسئلہ نہیں اٹھایا گیا۔ اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے دیئے گئے مکتوب پر صدرنشین کرشنا واٹر مینجمنٹ بورڈ نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر جان بوجھ کر تلنگانہ سے ناانصافیوں پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس پارٹی تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔