دریائے کرشنا کے پانی پر آندھراپردیش کی داداگری نہیں چلے گی

   

مرکز کے رویہ پر چیف منسٹر کی برہمی، تلنگانہ کو پانی کے استعمال کا حق
حیدرآباد۔2 ۔اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دریائے کرشنا کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر آندھراپردیش حکومت کے رویہ پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دریائے کرشنا کے پانی پر آندھراپردیش حکومت داداگری کر رہی ہے جسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ۔ پانی کے استعمال کے سلسلہ میں دونوں ریاستوں کے درمیان جاری تنازعہ کے پس منظر میں چیف منسٹر کے یہ ریمارکس اہمیت کے حامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے اقدامات کرے گی اور تلنگانہ کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کو دریائے کرشنا کے پانی کے استعمال کا مکمل حق حاصل ہے اور آندھراپردیش کے اعتراضات غیر ضروری ہے۔ چیف منسٹر نے آبی تنازعہ پر مرکزی حکومت کے رویہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کا رویہ تلنگانہ سے ناانصافی کے مترادف ہے ۔ آندھرا حکومت کی جانب سے دریائے کرشنا پر غیر قانونی پراجکٹس کی تعمیر سے عوام بخوبی واقف ہیں۔ غیر قانونی پراجکٹس کے نتیجہ میں مستقبل میں تلنگانہ کو دشواری ہوسکتی ہے۔ لہذا ہمیں سخت چوکسی کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کرشنا اور گوداوری کے پانی کے استعمال کے ذریعہ تلنگانہ حکومت آبپاشی پراجکٹس تعمیر کرے گی تاکہ زرعی اغراض کے لئے پانی سیراب کیا جاسکے۔