دس لاکھ فلسطینیوں کو بھوک سے مارنے کی کوشش:فلسطین

   

یروشلم : فلسطینی وزیر خارجہ نے روز اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ ‘ اسرائیل تقریباً دس لاکھ فلسطینیوں کو غزہ میں بھوک سے مارنے کی کوشش میں ہے ۔’ اس سے پہلے اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک پروگرام کہہ چکا ہے غزہ میں فلسطینیوں کی نصف آبادی اسرائیلی جنگ کے بڑھتے ہی چلے جانے کی وجہ سے بھوکوں مر سکتی ہے ۔تاہم اسرائیل نے فلسطینی وزیر خارجہ کے بیان کو بیہودگی قرار دیا ہے ۔ اسرائیل کہتا ہے اس نے رفح کی راہداری سے خوراک لانے کی اجازت دے رکھی ہے ، اس طرح کرم شالوم کی راہداری امدادی سامان لانے کیلئے جلد کھولی جا سکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اعلامیے کے 75 سال مکمل ہونے پر ریاض المالکی نے کہا ‘ غزہ کی پٹی پر دس لاکھ فلسطینی جن میں سے نصف بچے ہیں بھوکے اور پیاسے ہیں اور یہ کسی قدرتی آفت کے سبب بھوک کی زد میں نہیں بلکہ اس وجہ سے بھوک مر رہے ہیں کہ سرحد پار سے آنے والی فراخ دلانہ معاونت بہت کم ہے ۔ یہ فلسطینی اس وجہ سے موت کا شکار ہوں گے کہ اسرائیل بھوک کو ایک ہتھیار کے طور پر استتعمال کر رہا ہے ۔