دستور خطرہ میں، کانگریس کی کامیابی کیلئے کمر بستہ ہوجائیں

   

Ferty9 Clinic

مساجد میں ووٹ کی ترغیب دینے مذہبی رہنماؤں سے اپیل: ایم اے لطیف

نرمل /2 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مسٹر ایم اے لطیف سینئیر کانگریسی قائد و پارلیمانی انتخابات میں لوک سبھا عادل آباد کے انچارج ہیں ۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ملک کے جلیل القدر عہدہ پر فائز وزیر اعظم مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے جمہوریت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ یہ انتخابات بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ہمیں اپنے ایک ایک ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے سیکیوالرزم کی علمبردار سو سال سے زائد تجربہ رکھنے والی جماعت کانگریس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرنا ہوگا ۔ آج ملک میں ہندو مسلم کے درمیان دوریاں پیدا کرتے ہوئے حصول اقتدار کیلئے بی جے پی مسلمانوں کے خلاف دل آزار تقاریر کے ذریعہ اقلیتوں کے خدمات کو مجروح کر رہی ہے ۔ اب اس جماعت کو سبق سکھانے کا وقت آچکا ہے ۔ واضح رہے کہ مسٹر ایم اے لطیف متحدہ ضلع عادل آباد کے تمام اسمبلی حلقہ جات کا دورہ کرتے ہوئے لوک سبھا عادل آباد کی کانگریس امیدوار آتما سوگنا کی کامیابی کیلئے انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔ ان کا عزم ہے کہ لوک سبھا عادل آباد میں اس بار کانگریس کا پرچم بلند کیا جائے گا ۔ مسٹر ایم اے لطیف نے کہا کہ بی جے پی اپنی دو معیادوں میں کبھی بھی کسی انتخابی وعدہ پر عمل آوری نہیں کی ۔ صرف اور صرف سرمایہ داروں کو مستحکم کرنے اور ملک میں نفرت کی سیاست کو فروغ دینے کا کام کرتے ہوئے اقتدار کی ہوس میں یہ بھول گئے کہ غریب جب جاگ اٹھتا ہے تو بڑے بڑے بادشاہوں کا اقتدار کھسک جاتا ہے ۔ کہاں گئے 15 لاکھ روپئے جو ہر شہری کے اکاونٹ میں جمع کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ ہر سال دو کروڑ ملازمتیں صرف مندر مسجد ہندو مسلم سے ہٹ کر کچھ نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں کیونکہ چندرا شیکھر راؤ نے بھی اقتدار میں آنے سے قبل مسلمانوں کو تحفظات کا وعدہ کیا تھا جبکہ عوام نے انہیں عام انتخابات میں مسترد کردیا ۔ ملک کیلئے کانگریس کی قربانیاں کھلی کتاب کی طرح ہیں ۔ اندرا گاندھی کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا تھا ۔ سونیا گاندھی کے مانگ کا سیندور اجاڑ دیا گیا پھر بھی عوامی خدمت کے جذبہ کے تحت یہ خاندان آج بھی ملک کی ترقی اور بے سہارا عوام کیلئے رات دن اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے ریاست کے تمام طبقات اور مسلم بھائیوں و بہنوں ، بزرگوں اور دوستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کانگریس کی کامیابی کیلئے کمربستہ ہوجائیں ۔ میں بالخصوص مذہبی رہنماؤں سے پرخلوص اپیل کرتا ہوں کہ وہ مساجد میں ووٹ کے استعمال کیلئے عوام میں شعور بیداری کیلئے ترغیب دیں کیونکہ اس الیکشن میں مرکزی حکومت کے منصوبے کوئی ٹھیک نہیں بلکہ ملک کا آئین خطرہ میں ہے ۔ جس کا تحفظ ہر شہری ہر طبقہ کی ذمہ داری ہے ۔