دستور سازوں نے ہندو انڈیا مسلم انڈیا کے نظریہ کو مسترد کردیا

,

   

ملک پر کسی ایک کی اجارہ داری نہیں چل سکتی ، جسٹس چندر چوڑکا گجرات میں لیکچر

احمد آباد ۔ /16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے جج جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ دستور ہند میں ہر ایک شہری کو حقوق دیئے گئے ہیں ۔ ہر شخص اس ملک کا شہری ہے اور اسے تمام دستوری حقوق حاصل ہیں ۔ ملک کے نظریہ پر کسی فرد واحد یا ادارہ کی اجارہ داری نہیں چل سکتی ۔ سپریم کورٹ جج نے مزید کہا کہ دستور ہند میں کثیرالوجود معاشرہ کو اہمیت دی ہے ۔ جسٹس چندر چوڑ نے ہندوستان کے کثیرالوجود شناخت کے تحفظ کیلئے مثبت اقدامات کا حوالہ بھی دیا ۔ انہوں نے جمہوری ہندوستان کی تعمیر میں دستور سازوں کے رول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دستور بنانے والوں نے ہندوستان کو ہندو انڈیا یا مسلم انڈیا کے نظریہ سے دیکھنے کے خیال کو مسترد کردیا ہے ۔ وہ گجرات میں جسٹس پی ڈی دیسائی میموریل 15 واں لکچر دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں یہ واضح ہے کہ یہ ملک جمہوری بنیادوں پر قائم ہے ۔ ہندوستانیوں کو دیئے جانے والے اختیارات تمام شہریوں پر لاگو ہوتے ہیں ۔ انہوں نے ہندوستان کی آنے والی نسلوں کیلئے دستور ہند میں واضح کہا گیا ہے کہ ملک کے اندر ہر ایک شخص کو ترقی کرنے اپنی مرضی سے مذہبی امور انجام دینے کے اختیارات دیئے گئے ہیں ۔ ہندوستانی کا مطلب یہی ہے کہ وہ جمہوری حقوق سے استفادہ کریں ۔ ہر شہری کے ہندوستانی ہونے کی شناخت یہ ہے کہ ہر ایک کو دستوری حقوق حاصل ہوں ۔ ہندوستان میں رہنے والا ہر شخص چاہے وہ کسی مذہب سے ہو ، کسی بھی نسل ، ذات اور فرقہ سے تعلق رکھتا ہو وہ ہندوستانی کہلائے گا ۔ ہمارے اختلافات ہماری کمزوریاں ہیں۔ ہمیں ان اختلافات کو دور کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی ۔ انسانیت ہی ہماری پہچان ہے اوریہی ہماری طاقت ہے ۔