سیکولر اور سوشلسٹ الفاظ غائب، ماہرین تعلیم اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل
حیدرآباد ۔23۔ جون (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے نصاب میں تبدیلی اور ہندوتوا نظریات پر مشتمل مضامین کو شامل کرنے کی مساعی کے بارے میں ہر کوئی واقف ہے لیکن تلنگانہ میں حکومت کے ادارہ کی جانب سے دستور کی تمہید کو تبدیل کرنے کا واقعہ منظر عام پر آیا ۔ تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ (SCERT) کی جانب سے دسویں جماعت کی سوشیل اسٹڈیز کی نصابی کتب پر دستور ہند کی تمہید شائع کی گئی جس میں لفظ ’’سیکولر‘‘ اور ’’سوشلسٹ‘‘ موجود نہیں ہیں۔ تحریف شدہ دستور کی تمہید کی اشاعت پر ماہرین تعلیم اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دستور کی تمہید چاہے کسی بھی مقام سے اخذ کی جائے اس میں لفظ سیکولر اور سوشلسٹ موجود رہے گا۔ سرکاری نصاب کی تیاری سے متعلق اسٹیٹ کونسل نے پتہ نہیں کہاں سے تمہید کو اخذ کیا جس میں دو اہم نکات شامل نہیں ہیں۔ آیا یہ جان بوجھ کر کیا گیا یا پھر حکام کی غلطی تھی، اس بارے میں حکومت کے موقف سے پتہ چلے گا۔ ماہرین تعلیم نے دستور کی تمہید میں تبدیلی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دستور کی یہ تمہید ابتدائی دور کی ہے اور اس کا جائزہ لئے بغیرہی شائع کردیا گیا ۔ بعض دیگر افراد کا ماننا ہے کہ جان بوجھ کر یہ غلطی کی گئی ۔ دستور سازی کے بعد 1950 ء سے نفاذ عمل میں آیا اور ابتداء میں لفظ سوشلسٹ سیکولر تمہید میں شامل نہیں تھا۔ 18 ڈسمبر 1966 ء کو دستور میں 43 ویں ترمیم کے ذریعہ اسے شامل کیا گیا۔ کونسل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمہید کے انتخاب میں جان بوجھ کر کوتاہی نہیں ہوئی اور تازہ ترین تمہید سے تقابل کیا جاتا تو غلطی باقی نہ رہتی۔ ٹیچرس کی تنظیموں نے اس معاملہ کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے سوشل اسٹڈیز کی انگلش اور تلگو میڈیم کی پانچ لاکھ سے زائد کاپیاں تقسیم کی گئیں جس کے سرورق پر دستور کی تمہید شائع کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط تمہید کی اشاعت سے طلبہ پر منفی اثر پڑے گا اور وہ ہندوستان کو سیکولر اور سوشلسٹ ملک کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے۔ کونسل کے ذمہ داروں کو چاہئے تھا کہ وہ مکمل جانچ کے بعد ہی تمہید کی اشاعت کی اجازت دیتے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے اس معاملہ میں تاحال کوئی وضاحت نہیں کی گئی تاہم اطلاعات کے مطابق کونسل کے ڈائرکٹر رادھا ریڈی کا کہنا ہے کہ ٹسٹ بک کے کور پیج کی ڈیزائننگ کے وقت دستور کی تمہید کو انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا گیا اور ابتدائی دور کی تمہید کو تازہ تصور کرتے ہوئے شامل اشاعت کیا گیا۔ کونسل کا کہنا ہے کہ آئندہ پرنٹنگ کے موقع پر اس غلطی کو درست کردیا جائے گا۔ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل جبکہ بی جے پی تلنگانہ میں سر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے، بی آر ایس حکومت کی جانب سے دستور کے تمہید کی غلط اشاعت سے عوام میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی اس معاملہ کا سنگین نوٹ لیتے ہوئے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرتیں۔ر