لڑکوں پر لڑکیوں کو سبقت ، چیف منسٹر کی کامیاب طلبہ کو مبارکباد ، ریاست کا اثاثہ قرار دیا
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے دسویں جماعت کے نتائج جاری کردئیے ۔ ان نتائج میں کامیاب ہونے والوں کی شرح 92.78 فصد ریکارڈ کی گئی ہے ۔ ایس ایس سی کے نتائج میں لڑکوں کے کامیابی کا تناسب 91.32 فیصد ہے جب کہ لڑکیوں کی کامیابی کا تناسب 94.26 فیصد رہا ہے ۔ لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے 2.94 فیصد زیادہ پاس ہوئی ہیں ۔ اس مرتبہ 4629 اسکولس کے صد فیصد نتائج برآمد ہوئے تاہم صرف دو اسکولس کے صفر فیصد نتائج برآمد ہوئے ۔ 99.29 فیصد نتائج کے ساتھ ضلع محبوب نگر کو سرفہرست مقام حاصل ہوا ہے جب کہ 73.97 فیصد نتائج کے ساتھ ضلع وقار آباد کو آخری مقام حاصل ہوا ہے ۔ تلنگانہ گروکل اسکولس کے 98.79 فیصد نتائج حاصل ہوئے ۔ امدادی ، ضلع پرجا پریشد اور سرکاری اسکولس کے 92.78 فیصد نتائج حاصل ہوئے ۔ سی جی پی اے سسٹم کے خاتمے کے بعد سبجکٹس کے لحاظ سے مارکس اور گریڈینگس جاری کئے گئے ۔ 21 مارچ سے 3 اپریل تک دسویں جماعت کے امتحانات منعقد کئے گئے تھے ۔ 5,09,564 امیدواروں نے امتحانات میں شرکت کی ۔ 7 تا 15 اپریل تک پرچوں کی جانچ کی گئی ۔ ریاست میں خانگی اسکولس سے زیادہ سرکاری اسکولس میں کامیابی حاصل کرنے والوں کا زیادہ تناسب ہے ۔ خانگی اسکولس سے کامیاب ہونے والوں کا تناسب 57.22 فیصد ہے ۔ جس میں لڑکوں کے کامیابی کا تناسب 55.14 فیصد اور لڑکیوں کی کامیابی کا تناسب 61.70 فیصد ہے ۔ نتائج کی اجرائی کے بعد چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کامیاب ہونے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ طلبہ ریاست تلنگانہ کا مستقبل ہے ۔ حکومت تعلیمی شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ سرکاری اسکولس میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ ٹیچرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر بڑے پیمانے پر تقررات کئے گئے ہیں ۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارک ، ریاستی وزیر پونم پربھاکر ، حکومت کے مشیر برائے اقلیت محمد علی شبیر ، رکن پارلیمنٹ سریش شٹکار سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ کے علاوہ دوسرے قائدین اور عہدیدار موجود تھے ۔۔ 2