رقم ، شراب اور مٹن کی تقسیم کی تیاریاں، دیپاولی میںپٹاخے اور ملبوسات بھی تقسیم کئے جائیں گے، روزانہ مہم پر لاکھوں کا خرچ
حیدرآباد ۔16۔اکتوبر (سیاست نیوز) انتخابات کے دوران اگر تہوار آجائیں تو رائے دہندوں کیلئے امیدواروں کی جانب سے مختلف تحائف کی پیشکش اور تقسیم عام رجحان ہوچکا ہے ۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی مہم کا عملاً آغاز ہوچکا ہے حالانکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور 3 نومبر سے پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا آغاز ہوگا۔ بی آر ایس نے اپنے تمام امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے جبکہ کانگریس پارٹی نے 55 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے تاحال پہلی فہرست جاری نہیں کی گئی۔ بی آر ایس کے امیدوار اپنی مہم میں مصروف ہوچکے ہیں اور کانگریس کی جانب سے بھی متوقع امیدواروں نے رائے دہندوں سے ربط قائم کرنا شروع کردیا ہے ۔ ہر الیکشن کی طرح رائے دہندوں کو لبھانے کے لئے طرح طرح کے طریقے استعمال کئے جارہے ہیں۔ رائے دہندوں کے لئے دسہرہ اور دیپاولی کے تہوار ڈبل دھماکہ ثابت ہوں گے کیونکہ دونوں تہواروں کے موقع پر سیاسی پارٹیوں کی جانب سے دولت، شراب، مٹن ، چکن اور پٹاخوں کی تقسیم کی بڑے پیمانہ پر تیاری کی جارہی ہے ۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ رائے دہندوں بالخصوص نوجوانوں کو انتخابی مہم میں شامل کرنے کیلئے مختلف انداز سے مراعات اور تحائف کی فراہمی ضروری ہے۔ امیدواروں کو سب سے پہلے دسہرہ تہوار کا سامنا ہے جس میں نقد رقم کے علاوہ شراب اور مٹن اور چکن کی سربراہی کی تیاری کی جارہی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق ہر اسمبلی حلقہ میں امیدوار کو دسہرہ کے موقع پر دو کروڑ سے زائد خرچ کرنے پڑسکتے ہیں۔ امیدوار جس حد تک دولتمند رہے گا ، اسے اتنا زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔ غریب اور متوسط طبقات کے لئے مٹن ، چکن اور شراب کے پیاکیجس ترتیب دیئے جارہے ہیں جبکہ نوجوان نسل کی جانب سے نقد رقم کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ بی آر ایس امیدواروں سے رائے دہندوں کو زیادہ امیدیں ہیں کیونکہ وہ دوسری یا تیسری مرتبہ منتخب ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ دسہرہ کے موقع پر شراب کی فروخت میں اضافہ ہوجاتا ہے ، ایسے میں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے تقسیم کی صورت میں رائے دہندوں کو اپنے طور پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ شہری اور دیہی علاقوں میں رائے دہندوں کیلئے دسہرہ کا پیاکیج مختلف ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ غریب خاندانوں کو ایک کیلو مٹن یا چکن کے ساتھ شراب کا ہاف باٹل دیا جائے گا۔ اگر گھر میں رائے دہندوں کی تعداد زیادہ ہو تو وہاں فل باٹل بھی دیا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے نتیجہ میں امیدواروں کو تحائف کی تقسیم میں احتیاط کرنی ہوگی۔ پولیس اور دیگر محکمہ جات کی جانب سے ضابطہ اخلاق پر عمل آوری کی سختی سے نگرانی کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مٹن اور چکن کی دکانوں کو تقسیم کی ذمہ داری دی جائے گی تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو۔ جاریہ ماہ دسہرہ اور پھر نومبر میں دیپاولی کے سبب امیدواروں کو دو مرتبہ رائے دہندوں میں نقد رقم ، شراب اور دیگر اشیاء تقسیم کرنی ہوں گی۔ بی آر ایس کے امیدواروں میں تقریباً ایک ماہ سے اپنی انتخابی مہم کو جاری رکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں روزانہ کارکنوں پر 2 تا 3 لاکھ روپئے خرچ ہورہے ہیں ۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے ، روزانہ کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے اسمبلی حلقہ جات کیلئے 40 لاکھ روپئے انتخابی مصارف کی حد مقرر کی ہے لیکن بیشتر امیدواروں کا پرچہ نامزدگی کے ادخال سے قبل ہی 40 لاکھ سے زائد کا خرچ ہوچکا ہے۔ الیکشن کمیشن انتخابی مصارف کے سلسلہ میں بھلے ہی سخت ہدایات جاری کرے لیکن شائد کوئی ایک اسمبلی حلقہ بھی ایسا نہیں ہوگا جہاں اہم امیدواروں کا انتخابی خرچ 40 لاکھ سے کم رہے ۔ دیہی علاقوں میں خواتین اور طالبات میں ملبوسات کی تقسیم کی تیاری کی جارہی ہے تاکہ دونوں تہواروں کے موقع پر تقسیم سے ان کی تائید حاصل ہو۔