دسہرہ کی تعطیلات میں توسیع پر حکومت کا غور

   

آر ٹی سی ہڑتال کے سبب متبادل انتظامات ، کالجس اور اسکولس کی کشادگی کے بعدکی صورتحال کا جائزہ
حیدرآباد۔9اکٹوبر(سیاست نیوز ) حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاریہ آر ٹی سی ہڑتال کے سبب متبادل انتظامات کو یقینی بنانے کیلئے تعطیلات میں توسیع دینے کے متعلق غور کیا جا رہا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ حکومت تلنگانہ کے محکمہ تعلیم نے بتکماں اور دسہرہ کی جاریہ تعطیلات کو دو یا تین یوم کے لئے مزید وسعت دینے کے سلسلہ میں غور کرنا شروع کردیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ آرٹی سی کی ہڑتال کے سبب پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکومت نے یہ تجویز پیش کی ہے تاکہ کالجس اور اسکولس کی کشادگی کے ساتھ ہی پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹا جاسکے ۔ تعطیلات کے سبب فی الحال آرٹی سی ہڑتال کا اثر اسکولی طلبہ اور اساتذہ کو تعطیل کے سبب محسوس نہیں ہورہا ہے اور آر ٹی سی بسوں کے نہ ہونے کے سبب شہرکے نواحی علاقوں میں اسکولی بسیں چلائی جا رہی ہیں اگر اسکول اور کالجس کی کشادگی عمل میں آتی ہے تو ایسی صورت میں آر ٹی سی بسوں کا استعمال کرنے والے مسافرین کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوجائے گا اور اسکولوں اور کالج انتظامیہ کی بسیں جو چلائی جا رہی ہیں وہ اپنے اداروں کے طلبہ کی آمد و رفت کیلئے مصروف ہوجائیں گی

اسی لئے حکومت کی جانب سے اس بات پر غور کیا جا رہاہے کہ بسوں کی تعداد میں اضافہ کے علاوہ اسکولی و کالجس کی بسیں جو حکومت کی جانب سے مسافرین کیلئے استعمال کی جا رہی ہیں ان کے استعمال میں کچھ توسیع حاصل ہواور حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو بہتر انداز میں مکمل کرنے کے بعد ہی اسکولوں کی کشادگی عمل میںلائی جائے ۔ محکمہ تعلیم کے اس منصوبہ کی خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے تعلیمی کیلینڈر میں ہی نصاب کی تکمیل مشکل ہے اور اب اگر اس طرح تعطیلات میں توسیع دینے کے فیصلے کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں طلبہ کی تعلیم متاثر ہوگی۔ جناب سید آصف تلنگانہ ریکگنائزڈ اسکولس مینجمنٹ اسوسیشن نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے بتکماں اور دسہرہ تعطیلات میں توسیع کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تعلیمی کیلینڈر متاثر ہوگا کیونکہ تعطیلات کے فوری بعد بیشتر اسکولوں اور بالخصوص سرکاری اسکولوں میں بھی امتحانات کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے لیکن حکومت کو اس بات کا احساس تک نہیں ہے کہ تعطیلات میں توسیع کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اور طلبہ کے علاوہ نصاب کی تکمیل کیلئے اساتذہ کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔