دشمن کے ارادوں کو ظاہر ہے اگر کرنا

   

نتیش کی بیہودہ حرکت … بی جے پی قائدین کی شرمناک تائید
رام کا نام بدنام نہ کرو … کرنسی پر گاندھی کی تصویر کو خطرہ

رشیدالدین
عمر کے آخری حصہ میں بعض لوگ سٹھیا جاتے ہیں اور عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔ اچھے اور برے کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور ایسے افراد کو دماغی بیمار بھی کہا جاتا ہے ۔ چیف منسٹر بہار نتیش کمار کو کیا کہا جائے ، اس کا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ یوں تو گزشتہ چند ماہ سے نتیش کمار ذہنی طور پر متاثر دکھائی دے رہے ہیں اور میڈیا میں کئی ویڈیو بھی منظر عام پر آئے۔ قومی ترانہ کے دوران اسٹیج سے اتر جانا اور سرکاری تقاریب میں بے تکی حرکتیں ان کا معمول بن چکا تھا ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ بی جے پی انہیں چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرنے راضی نہیں تھی لیکن سیاسی مجبوری کے تحت ذہنی طور پر متاثر شخص کو چیف منسٹر کے طور پر قبول کرلیا گیا۔ ماہرین نفسیات نے اسی لئے عمر کی ایک حد کے بعد ریٹائرمنٹ کی تجویز رکھی جسے دنیا بھر میں ہر سطح پر نافذ کیا گیا۔ سرکاری ملازمت میں جب ریٹائرمنٹ کی عمر کا تعین ہے تو پھر سیاست میں کیوں نہیں؟ عملی سیاست میں تو سیاستداں آخری سانس تک متحرک رہنا چاہتے ہیں جس کے نتیجہ میں نتیش کمار جیسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں نتیش کمار ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے ساتھ بیہودہ حرکت کے بعد سرخیوں میں ہے۔ سماج کے ہر طبقہ اور شعبہ کی جانب سے ان کی مذمت کی جارہی ہے ۔ احکامات تقرر حاصل کرنے پہنچی مسلم لیڈی ڈاکٹر کے حجاب کو نتیش کمار نے جبراً ہٹانے کی کوشش کی اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا۔ تقریب میں موجود بی جے پی قائدین نتیش کمار کی اس حرکت پر بظاہر حیرت میں اور اندر ہی اندر خوش تھے کیونکہ جو کام آج تک بی جے پی اور آر ایس ایس نے نہیں کیا ، وہ نتیش کمار نے کر دکھایا۔ ’’ہاتھ اس کا مری دستار تک آ پہنچا ہے‘‘ کے مصداق نتیش کمار نے خاتون کے حجاب کو چھونے کی انتہائی بیہودہ اور شرمناک گستاخی کی ہے۔ خاتون ڈاکٹر کو چاہئے تھا کہ حجاب تک دراز ہونے والے ہاتھ کو مروڑ دیتی لیکن اس اچانک جرأت سے شرمندہ اور نروس ہوچکی تھی۔ نتیش کمار کی گستاخی کا ویڈیو جیسے ہی وائرل ہوا ، دنیا بھر میں مذمت کی جانے لگی۔ کیا ہندو کیا مسلمان ہر انصاف پسند اور خواتین کی عزت و عصمت کے قائل ہر شخص نے نتیش کمار کی اس گھٹیا حرکت کی مذمت کی۔ نتیش کمار کی زندگی سیکولرازم اور سوشیلزم نظریات کے تحت رہی اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پردہ شعائر اسلام کا حصہ ہے اور مسلم خواتین اس کی پابندی کرتی ہے ۔ زیادتی عمر یا ضعف کے باعث نتیش کمار سٹھیا گئے یا پھر بی جے پی کے ساتھ رہ کر وہ بگڑ چکے ہیں۔ حجاب کھینچنے کا جو ویڈیو وائرل ہوا ، اس میں صاف محسوس ہورہا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر شرارت کی تاکہ مسلمانوں کی دلآزاری ہو۔ مسلم لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے نتیش کمار کیا ان کی بیٹی کو کسی کے چھیڑنے پر خاموش رہیں گے ؟ دستور ہند نے خواتین کو اپنی مرضی کے مطابق لباس زیب تن کرنے کی اجازت دی ہے۔ ملک کے اعلیٰ سے اعلیٰ عہدہ پر فائز شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ خواتین کے لباس سے کھلواڑ کریں۔ ہندوستان میں ماں ، بہن ، بیٹی اور بہو جیسے رشتوں کا حد درجہ احترام کیا جاتا ہے اور ہر مذہب نے خواتین کے احترام کی تعلیم دی ہے۔ نتیش کمار نے انتہائی درجہ کی شرارت کرتے ہوئے دلآزاری کی انتہا کردی۔ آزادی کے بعد سے آج تک تاریخ گواہ ہے ، جارحانہ فرقہ پرستوں نے بھی حجاب کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کی لیکن سیکولرازم اور مسلم دوستی کی آڑ میں نتیش کمار نے اپنی مخفی ذہنی خباثت کو برسر عام کردیا۔ حجاب کی توہین پر مسلم سماج کی جانب سے جس قدر احتجاج ہونا تھا ، نہیں ہوا۔ صرف رسمی انداز میں مذمتی بیانات پر مذہبی ، سیاسی اور سماجی قائدین نے اکتفا کیا۔ لیڈی ڈاکٹر نصرت جہاں نے اسلامی حمیت اور غیر ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملازمت کو ٹھکرادیا ہے ۔ نصرت جہاں نے نتیش کمار کی بے ہودہ حرکت کا کرارا جواب دیتے ہوئے ثابت کردیا کہ آج بھی مسلم خواتین شعائر اسلام سے اٹوٹ وابستگی رکھتی ہیں۔ نتیش کمار کی تائید میں بعض بی جے پی قائدین کھڑے ہوگئے۔ اتر پردیش کے وزیر سنجے نشاد نے بے شرمی اور بے غیرتی کی تمام حدود پھلانکتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ نتیش کمار بھی تو انسان ہیں۔ حجاب چھونے پر اتنا ہنگامہ ، اگر کہیں اور چھولیتے تو کیا ہوتا۔ سنجے نشاد کے یہ الفاظ ان کی مسلمانوں سے نفرت کے علاوہ اندرونی جنسی ہوس کو ظاہر کرتے ہیں ۔ کیا بی جے پی وزیر ان کی بیٹی کو نتیش کمار جیسے انسان کے چھیڑ دینے پر خاموش رہیں گے ؟ جس طرح اپنی ماں ، بہن ، بیٹی اور بہو محترم ہیں، اسی طرح دوسروں کے رشتوں کا احترام بھی ہونا چاہئے ۔ مخالف مسلم اور نفرتی بیانات کیلئے شہرت رکھنے والے مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے نتیش کمار کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ تقرر کے احکامات حاصل کرتے وقت چہرہ دکھانا چاہئے۔ پاسپورٹ بنانے اور ایرپورٹ پر چہرہ دکھانے کا حوالہ دیتے ہوئے گری راج سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اسلامی ملک نہیں ہے اور ہندوستانی قانون کا راج چلے گا۔ نتیش کمار اور گری راج سنگھ میں ہمت ہو تو راجستھان ، ہریانہ اور پنجاب میں کسی خاتون کا گھونگھٹ اٹھاکر دکھائیں ۔ کسی سکھ بھائی کی پگڑی کو ہاتھ لگاکر دیکھیں کیونکہ ایسی کسی بھی حرکت پر تلواریں میان سے نکل آئیں گی۔ ہندو سماج کے کئی طبقات ایسے ہیں جہاں خواتین حجاب کرتی ہیں ۔ دیہی علاقوں میں خواتین آج بھی سر پر گھونگھٹ اور چادر کے بغیر گھروں سے باہر نہیں نکلتیں۔ جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حجاب صرف اسلام میں نہیں بلکہ دیگر مذاہب میں بھی خواتین کی عصمت اور عفت کی علامت ہے۔ نتیش کمار کی حرکت کی تائید کرنے والے بی جے پی قائدین شائد رامائن کے اس واقعہ کو بھول گئے جب رام اور لکشمن جنگل میں سیتا کی تلاش کر رہے تھے ، جنہیں راون نے اغواء کرلیا تھا۔ ایک مقام پر گلے کا کچھ زیور ملا ، رام نے اپنے بھائی لکشمن سے کہا کہ دیکھو کہیں یہ تمہاری بھابی کا زیور تو نہیں؟ لکشمن نے جو جواب دیا وہ فرقہ پرستوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ لکشمن نے کہا کہ بھائی میں نہیں پہچان سکتا کیونکہ میں نے آج تک اپنی بھابی کے پیروں سے ہٹ کر اوپر نہیں دیکھا۔
’’دیکھو او دیوانو تم یہ کام نہ کرو، رام کا نام بدنام نہ کرو‘‘ 1979 کی دیوآنند اور زینت امان کی فلم ’’ہرے راما ہرے کرشنا‘‘ کا یہ گیت آنند بخشی نے لکھا اور کشور کمار نے گایا تھا۔ آج ملک میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کو اس فلمی نغمہ کو دوبارہ سننے کی ضرورت ہے ۔ لوک سبھا میں مہاتما گاندھی دیہی ضمانت روزگار یوجنا (منریگا) اسکیم کو ختم کرتے ہوئے نئی اسکیم کا اعلان کیا گیا جس میں مہاتما گاندھی کی جگہ جی رام جی کا اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران نریندر مودی حکومت نے ہر سطح پر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ رام مندر کی تعمیر میں کامیابی کے بعد سے فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہیں اور حد تو یہ ہوگئی کہ سرکاری اسکیمات کو رام سے منسوب کیا جارہا ہے تاکہ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کیا جائے ۔ گاندھی جی کا نام حذف کرنے کیلئے حکومت نے یہ دلیل پیش کی کہ جس وقت گاندھی جی کو گولی لگی ، ان کے آخری الفاظ ’’ہے رام ‘‘ تھے۔ بی جے پی کی گاندھی سے نفرت کوئی نئی بات نہیں ہے اور ناتھورام گوڈسے آج بھی سنگھ پریوار کا ہیرو ہے۔ اچھا ہوا بی جے پی نے گاندھی کا نام ہٹاکر گوڈسے اور ساورکر کا نام اسکیم سے نہیں جوڑدیا ۔ شائد آنے والے دنوں میں ہندوستانی کرنسی سے بھی گاندھی کی تصویر کو ہٹا دیا جائے گا اور وہاں بھی رام کو جگہ دی جائے گی۔ بی جے پی رام کی عزت نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لئے ان کی توہین کر رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 1971 کا مشہور فلمی نغمہ کسی نے بی جے پی کو بھیجا ہے۔ 2005 میں دیہی علاقوں کے بیروزگار نوجوانوں کو مقامی سطح پر کام دلانے کیلئے منریگا اسکیم متعارف کی گئی تھی۔ مودی حکومت نے اسکیم کا نام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اسکیم میں ریاستوں کی 40 فیصد حصہ داری مقرر کرتے ہوئے ریاستوں پر نیا بوجھ عائد کردیا ہے۔ بی جے پی سے کوئی سوال کرے کہ آخر گاندھی جی کا سینہ کتنی بار چھلنی کیا جائے گا۔77 سال قبل ناتھورام گوڈسے نے گاندھی جی کے سینہ کو گولیوں سے چھلنی کیا تھا اور 77 برس بعد بی جے پی نے منریگا اسکیم سے ان کا نام خارج کرتے ہوئے پھر ایک بار زخموں کو تازہ کردیا ہے۔ ہندوستانی کرنسی سے گاندھی جی کی تصویر ہٹانے کیلئے بھی یہی بہانہ بنایا جائے گا کہ گاندھی جی رام راج چاہتے تھے اور ان کے آخری الفاظ ہے رام تھے۔ بی جے پی کو دراصل فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا موقع چاہئے۔ نتیش کمار کی بیہودہ حرکت ہو یا پھر مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ کے واقعات یہ تمام مسلمانوں کی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ جب تک مسلمان کمزور رہیں گے اور مرعوب اور ذہنی غلامی کے ساتھ جینا چاہیں گے ، اس وقت تک ہر طاقتور ان پر حملہ آور ہوگا۔ دنیا میں اصل جنگ دولت کی نہیں بلکہ فکری برتری کی ہے۔ اسی لئے مسلمانوں کو خود کو مضبوط بناتے ہوئے ظالم سے مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کرنی ہوگی۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
دشمن کے ارادوں کو ظاہر ہے اگر کرنا
تم کھیل وہی کھیلو انداز بدل ڈالو