چیف جسٹس کی طرف سے جسٹس رمنا کے زیرقیادت پانچ رکنی دستوری بنچ کی تشکیل، تمام درخواستوں کی حوالگی
نئی دہلی 30 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دستور کی دفعہ 370 کی تنسیخ اور ریاست کے دیگر تمام مسائل کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ تمام درخواستوں کو پیر کے روز اپنی دستوری بنچ سے رجوع کردیا جس پر کل منگل سے سماعت شروع ہوگی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت میں ایک بنچ نے ان درخواستوں کو دستوری بنچ سے رجوع کیا۔ ان درخواستوں میں کشمیر میں جرنلسٹوں کی نقل و حرکت پر عائد مبینہ پابندیوں کے علاوہ وادی میں کمسن بچوں کی حراست جیسے مختلف مسائل بھی اُٹھائے گئے ہیں۔ جن پر عدالت عظمیٰ کے پانچ ججوں پر مشتمل دستوری بنچ سماعت کرے گی۔ جسٹس این وی رمنا کے زیرقیادت اس بنچ میں جسٹس ایس کے کونی، جسٹس آر سبھاش ریڈی، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت شامل ہیں۔ دستور کی دفعہ 370 کی تنسیخ، ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے مرکز کے فیصلوں کو چیلنج کرتے ہوئے اکثر درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ دونوں مرکزی زیرانتظام علاقوں کا 31 اکٹوبر سے وجود عمل میں آئے گا۔ نیشنل کانفرنس کے علاوہ سجاد لون کے زیرقیادت جے کے پیپلز کانفرنس اور دیگر کئی نے انفرادی درخواستیں دائر کی ہیں۔ ان میں ایک سینئر ایڈوکیٹ ایم ایل شرما بھی شامل ہیں جنھوں نے سب سے پہلے درخواست دائر کی تھی۔ نیشنل کانفرنس کی درخواست اس کے ارکان پارلیمنٹ محمد اکبر لون اور جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے دائر کی ہے۔ اکبر لون جموں و کشمیر اسمبلی کے سابق اسپیکر ہیں۔ جسٹس مسعودی جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں۔ 2015 ء میں بحیثیت جج انھوں نے رولنگ دی تھی کہ 370 ، دستور کی مستقل دفعہ ہے۔ دیگر کئی درخواستوں میں ایک وہ بھی ہے جو سابق دفاعی و سیول افسران نے دائر کی ہے۔ اُنھوں نے صدرجمہوریہ کی طرف سے 5 اگسٹ کو جاری کردہ اعلامیہ کو ’غیر دستوری‘ ناقابل تعمیل اور کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ پروفیسر رادھا کمار نے جو 2011 ء میں وزارت داخلہ کی طرف سے تشکیل شدشہ مصالحت کاروں کے گروپ میں ایک رکن تھے جموں و کشمیر حکیڈر کے ایک سابق آئی اے ایس افسر بندال حیدر طیب جی، ایروائس مارشل (ریٹائرڈ) کپل کاک، میجر جنرل (ریٹائرڈ) اشوک کمار مہتا، پنجاب کیڈر کے سابق آئی اے ایس افسر امیتابھ پانڈے، کیرالا کیڈر کے سابق آئی اے ایس افسر گوپال پلٹی بھی شامل ہیں۔ گوپال پلٹی بحیثیت مرکزی معتمد داخلہ 2011 ء میں وظیفہ پر سبکدوش ہوئے تھے۔ سرکاری افسر سے سیاستداں بننے والے شاہ فیصل نے اپنی پارٹی کے رفقاء اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹس لیڈر شہلا راشد کے ساتھ ایک درخواست دائر کی ہے۔ دفعہ 370 کی تنسیخ کے لئے مرکز کے فیصلے کو چیلنج کرنے والے چند دوسرے درخواست گذار بھی ہیں۔ نیشنل کانفرنس قائدین کا استدلال ہے کہ صدارتی حکمنامہ نے جموں و کشمیر میں تمام دستوری دفعات کے اطلاق کی راہ ہموار کی ہے جن کی بنیاد پر دفعہ 35A کو کالعدم کرتے ہوئے دفعہ 370 کو مکمل طور پر منسوخ کردیا گیا۔ نیشنل کانفرنس کے دونوں ارکان پارلیمنٹ نے صدارتی احکام کو ’غیر دستوری‘ منسوخ اور کالعدم‘‘ قرار دینے کی درخواست کی ہے۔