جموں: جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے چہارشنبہ کے روز کہا کہ دفعہ370 کے خاتمے سے جموں وکشمیر میں کوئی بھی بہتری نہیں آئی اور نہ ہی یہاں کے عوام کو کوئی فائدہ پہنچا، اُلٹا یہاں اس کے منفی اثرات دیکھنے کو ملے ، 5اگست2019کو جو اعلانات اور دعوے کئے گئے وہ سب سراب ثابت ہوئے ۔ ان باتوں باتوں کا اظہار موصوف نے کٹھوعہ میں ورکرس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمر عبداللہ نے اپنا خطاب میں کہا کہ ہم اس پریشانی میں تھے کہ یہاں الیکشن ہونگے یا نہیں ہونگے لیکن اب الیکشن کا بگل بجنے والا ہے ، اب شائد اس میں شک کی گنجائش نہیں، 2018کے بعد یہاں کوئی اپنی حکومت رہی نہیں اور 2019میں جموں و کشمیر کے حالات ہی بدل گئے ، ہمارا نقشہ بدل گیا،اس ملک کیساتھ ہمارا جو آئینی رشتہ تھا اُس میں بڑی تبدیلی آئی، جب یہ سب کچھ کیا گیا اُس وقت بہت کچھ کہا گیاتھا۔انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا تھا کہ ان فیصلوں سے نوجوانوں، بزرگوں، خواتین کو بہت فائدہ ہوگا، لیکن جب ہم اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھیں کہ فائدہ کہاں ہوا تو یہ کہیں ملتا۔انہوں نے کہاکہ اس بات کے دعوے کئے گئے کہ دفعہ370تعمیر و ترقی میں رکاوٹ ہیں اور اس کے جانے کے ساتھ ہی ترقی کے دروازے کھل جائیں گے ،نئے کارخانے لگیں گے ، نئی فیکٹریاں قائم ہونگے ، نوجوان کام پر لگیں گے اور بے روزگاری ختم ہوجائیگی ، لیکن میں جہاں جاتا ہوں وہاں وہی دکھتاہے جو پہلے تھا، کہیں پر بھی کوئی نئی فیکٹری یا کوئی نیا کارخانہ دیکھنے کو نہیں ملتا