اسکیم کے گائیڈ لائینس طئے نہیں کئے گئے، دیگر طبقات سے ناراضگی کا سامنا
حیدرآباد۔18 ۔اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے دلتوں کی معاشی ترقی کے لئے حضور آباد ضمنی چناؤ سے عین قبل دلت بندھو اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ ضمنی چناؤ میں یہ اسکیم اہم انتخابی موضوع بن چکی ہے اور حکومت نے بھونگیر کے واسالا مری گاؤں کے بعد حضور آباد میں اسکیم کا آغاز کیا اور متعلقہ ضلع کلکٹرس کے پاس فنڈس فراہم کئے گئے۔ حکومت دلت بندھو اسکیم کو ریاست بھر میں توسیع دینے کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن عہدیدار اس بارے میں الجھن کا شکار ہے۔ اسکیم کو توسیع دینے کے لئے حکومت کی جانب سے ابھی تک رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کئے گئے۔ خاص طور پر استفادہ کنندگان کے انتخاب کے لئے عہدیداروں کو کوئی رہنمائی نہیں کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں عہدیدار کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔2014 ء میں حکومت کی جانب سے کئے گئے جامع سروے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حکومت دلت بندھو اسکیم کے استفادہ کنندگان کی نشاندہی کر رہی ہے جبکہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پسماندگی کے تعین کیلئے بھی کوئی حد مقرر کی جائے۔ جس طرح دیگر اسکیمات کے لئے آمدنی کی حد کا تعین کیا گیا، اسی طرح دلت بندھو کیلئے بھی گائیڈلائینس مرتب کی جائیں۔ ریاست کے ہر دلت خاندان کو اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپئے بھی فراہمی حکومت کا منصوبہ ہے لیکن عہدیداروں کا ماننا ہے کہ دلت طبقہ کے ہر فرد کو پسماندہ تصور کرنے سے دیگر طبقات میں ناراضگی پیدا ہوسکتی ہے۔ لہذا اسکیم کے استفادہ کنندگان کے انتخاب میں احتیاط کی جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور آباد اسمبلی حلقہ میں اسکیم کے لئے درخواستوں کے ادخال کا آغاز ہوچکا ہے لیکن عہدیدار درخواستوں کی جانچ سے قاصر ہیں کیونکہ اسکیم کے بارے میں کوئی علحدہ گائیڈ لائینس موجود نہیں ہے ۔ ایسے خاندان جن کے نام 2014 ء کے سروے میں شامل نہیں ہوئے، انہیں اسکیم کے دائرہ میں شامل کرنا عہدیداروں کے لئے آسان نہیں ہے ۔ عہدیداروں نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ آمدنی کی حد کے علاوہ اثاثہ جات ، اراضی کی ملکیت اور تعلیمی قابلیت کو اہلیت کی شرائط میں شامل کیا جائے۔ ضمنی چناؤ کے پیش نظر چیف منسٹر نے اپنے اڈاپٹ کردہ گاؤں واسالامری میں نہ صرف اسکیم کا آغاز کیا بلکہ دلت خاندانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان میں دس لاکھ روپئے کی رقم تقسیم کردی گئی ۔ R
