گرمی کی شدت سے متاثر ، مستقبل قریب میں پرندوں کو مزید نقصان
حیدرآباد۔5۔جولائی (سیاست نیوز) دنیا بھر میں پرندوں کی تعداد میں تیزی سے گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں گرمی کی شدت میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں پرندوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے اور نادر و نایاب پرندے جو محفوظ زمرہ میں شمار کئے جاتے ہیں وہ غائب ہونے لگے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (لاس انجلیس) کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر گرم موسم کی شدت میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں آئندہ دنوں کے دوران پرندوں کی تعداد میں 12 فیصد تک کی کمی کا خدشہ ہے۔محققین نے پرندوں کی پیدائش اور ان کی عمرکے سلسلہ میں کی گئی تحقیق کے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ جنگلاتی علاقوں میں پرندوں کی افزائش کے معمولات تبدیل ہونے لگے ہیں اور جن پرندوں کی پیدائش جلد ہورہی ہے یا ان کے وقت میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے وہ تیزی سے ختم ہونے لگے ہیں۔ پرندوں کی پیدائش انڈوں کو گرمانے سے ہوتی ہے اور انڈوں کو گرمانے میں قدرتی گرمی کا اثر ان کی پیدائش کے وقت کو تبدیل کر رہا ہے جو کہ ان کی عمر پر اثر انداز ہونے کا سبب بن رہا ہے۔ یونیورسٹی کے محققین کا کہناہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں کی گئی تحقیق کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پرندوں کی تعداد میں گراوٹ کی بنیادی وجہ گرمی کی شدت میں اضافہ ہے اور محققین اب اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ ان پرندوں کو جو آزاد فضائوں میں رہتے ہیں انہیں گرمی کی شدت کے منفی اثرات سے کس طرح سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (لاس انجلیس) کے علاوہ مشیگن یونیورسٹی اور دیگر اداروں کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق کے دوران محققین نے نادر و نایاب پرندوں کی تعداد اور ان کی افزائش کے امور کا بھی مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے مطالعاتی جرنل میں اعداد و شمار شامل کئے ہیں۔م