دوحہ حملے پر دباؤ کے بعد نیتن یاہو نے غزہ امن منصوبے پر لچک دکھائی، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

   

دوحہ:5 اکٹوبر ( ایجنسیز ) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ قطر پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امریکہ اور عرب ممالک کے شدید دباؤ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے پر لچک دکھانے پر مجبور کردیا۔رپورٹ کے مطابق ستمبر میں اسرائیل کے دوحہ پر حملے نے قطر میں جاری غزہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا، جس پر خطے اور واشنگٹن میں سخت ردِعمل سامنے آیا۔ اس کے بعد امریکہ اور عرب ممالک نے اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھایا جس کے نتیجے میں نیتن یاہو نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں نرم رویہ اختیار کیا۔نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ کے باوجود نیتن یاہو نے منصوبے کی کئی شقوں میں ترامیم کروائیں، جن میں خاص طور پر غزہ سے مکمل انخلا اور فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق نکات شامل نہیں کیے گئے۔پاکستان میں بھی غزہ امن منصوبے پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا، تاہم وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ 20 نکات پاکستان کے تیار کردہ نہیں ہیں اور ان میں کئی اہم پہلوؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔