دورہ آسٹریلیا: ٹیم انڈیا کا ڈریسنگ روم یا زخمی کھلاڑیوں کا آئی سی یو

   

برسبین : برسبین ٹسٹ کے پہلے دن ٹیم انڈیا کے فاسٹ بولر نودیپ سینی انجری کے سبب اپنا آٹھواں اوور بھی پورا نہیں کر سکے۔سینی کو اس میچ میں کھیلنے کا موقع صرف اس وجہ سے ملا کہ ٹیم کے باقاعدہ بولر زخمی ہوگئے تھے۔اس دورے پر ٹیم انڈیا کے زخمی کھلاڑیوں کی تعداد ایک درجن تک جا پہنچی ہے۔اس پریشانی کی وجہ سے ٹیم مینجمنٹ کو برسبین میں کھیلے جارہے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں ایک مضبوط الیون کو میدان میں اتارنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔اس طرح انڈیا نے اس ٹیسٹ میچ میں جن پانچ بولروں کو کھلایا ان کا کل تجربہ صرف تین ٹیسٹ تھا۔ ان پانچ بولروں میں نودیپ سینی بھی شامل ہیں جو اب زخمی ہو گئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اس دورے پر کرکٹرز مسلسل زخمی یا ان فٹ کیوں ہو رہے ہیں؟ اس کی ایک وجہ ضرورت سے زیادہ کرکٹ سمجھی جاتی ہے۔کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے آئی پی ایل کے سیزن کو مؤخر کیا گیا اور اسے آگے بڑھانے کی وجہ سے اس ٹی 20 لیگ کے فورا بعد ہی انڈین ٹیم کو آسٹریلیا کے دورے کے لیے روانہ ہونا پڑا۔اسی سبب کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کی تھکاوٹ سے ابھرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس لیگ کے بعد طویل سیریز میں کھلاڑیوں کی فٹنس جواب دیتی نظر آئی۔آسٹریلین ٹیم کے ہیڈ کوچ جسٹن لینگر نے بھی حال میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اس سیریز میں پریشانی کا سبب آئی پی ایل بھی ہوسکتی ہے۔جسٹن لینگر نے کہا: ’مجھے بھی یہ لیگ پسند ہے۔ جس طرح ہم اپنی صلاحیتوں میں بہتری کے لیے پہلے کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے جاتے تھے اب آئی پی ایل میں وائٹ بال کرکٹ کھیل کر ہم خود کو تیار کرتے ہیں۔‘کرکٹ میں عام طور پر مختلف سیریز میں زخمی ہونے والے کھلاڑیوں کو دو درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔پہلا مسئلہ ان بلے بازوں کا ہے جو بیٹنگ کے دوران گیند لگنے سے زخمی ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر پہلے سے کچھ کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی سلسلے میں محمد شامی کے ہاتھ میں فریکچر، رویندر جڈیجہ کے انگوٹھے میں فریکچر، اشون کی پسلیوں میں چوٹ اور کے ایل راہل کی کلائی میں چوٹ شامل ہیں۔دوسرا مسئلہ فٹنس کی وجہ سے انجری اور چوٹ کا ہے۔ سیریز سے پہلے بہتر فٹنس کو برقرار رکھتے ہوئے اس مسئلے سے بچا جاسکتا ہے۔ لیکن اس بار مسئلہ یہ رہا ہے کہ دونوں ہی پریشانی ایک ساتھ پیش آئی ہیں۔ فٹنس کی پریشانی کے سبب زخمی ہونے والوں میں اومیش یادو، جسپریت بمراہ، نودیپ سینی اور ہنوما وہاری شامل ہیں۔